ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرے کا نفاذتیسرے دن میں داخل،کئی جہازوں کو لوٹایا
واشنگٹن،15اپریل(ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی جانب سے ایران کا بحری محاصرہ تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کا مکمل گھیراو¿ کر رکھا ہے۔ایک امریکی عہدے دار نے نام
ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرے کا نفاذتیسرے دن میں داخل،کئی جہازوں کو لوٹایا


واشنگٹن،15اپریل(ہ س)۔

آبنائے ہرمز میں امریکہ کی جانب سے ایران کا بحری محاصرہ تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کا مکمل گھیراو¿ کر رکھا ہے۔ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی حکمت عملی کے تحت ان تمام جہازوں کی نگرانی کی جا رہی ہے جو ایرانی تنصیبات سے نکل کر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے جہازوں کو روک کر واپس جانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوج صرف جہازوں کے خودکار ٹریکنگ سسٹم (AIS) پر بھروسہ نہیں کر رہی بلکہ دیگر ذرائع سے بھی ان کی شناخت کی جا رہی ہے۔ تاہم عہدے دار نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ جہازوں پر قبضے کی ضرورت پڑنے پر فوج کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور اب امریکی اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کا یہاں سے گزرنا ممکن نہیں رہا۔ سینٹکام کے مطابق پہلے 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز حصار توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جبکہ 6 تجارتی جہازوں نے امریکی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر واپسی اختیار کی۔ گذشتہ روز ایک امریکی تباہ کن بحری جہاز نے چابہار بندرگاہ سے نکلنے والے تیل کے دو ٹینکروں کو بھی روک دیا۔اس آپریشن میں 10 ہزار سے زائد فوجی، 12 جنگی جہاز اور درجنوں طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ یہ حصار خلیج عرب اور خلیج عمان کی تمام ایرانی بندرگاہوں پر بلا امتیاز لاگو ہے۔ دوسری جانب تہران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس تجارت کے لیے زمینی متبادل موجود ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق اس بحری حصار سے ایران کو یومیہ تقریباً 35 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ پیر کو اس محاصرے کا اعلان اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا تھا، تاکہ 28 فروری سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے دباو¿ بڑھایا جا سکے۔ موجودہ صورت حال میں امریکہ نے سمندری راستے سے ایران کی تمام تر معاشی تجارت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande