لبنان-اسرائیل مذاکرات کا پہلا دور ختم، جنگ بندی پر اتفاق نہیں
لبنان-اسرائیل مذاکرات کا پہلا دور ختم، جنگ بندی پر اتفاق نہیں واشنگٹن، 15 اپریل (ہ س)۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں جاری براہِ راست بات چیت کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے۔ تقریباً تین دہائیوں بعد ہونے والے ان براہِ راست مذاکرات کو خط
امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یچیئل لیٹر میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے


لبنان-اسرائیل مذاکرات کا پہلا دور ختم، جنگ بندی پر اتفاق نہیں

واشنگٹن، 15 اپریل (ہ س)۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں جاری براہِ راست بات چیت کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے۔ تقریباً تین دہائیوں بعد ہونے والے ان براہِ راست مذاکرات کو خطے میں امن کی بحالی کی سمت میں ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے، تاہم فی الحال جنگ بندی پر کوئی ٹھوس اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یچیئل لیٹر نے لبنانی سفیر ندا حمادہ کے ساتھ ہونے والی دو گھنٹے کی میٹنگ کو ’’بے حد مثبت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان کئی اہم تجاویز اور مشوروں پر تبادلہ خیال ہوا ہے، جنہیں اب اپنی اپنی حکومتوں کے سامنے رکھا جائے گا۔

تاہم، جنگ بندی کے سوال پر اسرائیل نے واضح موقف اپناتے ہوئے کسی بھی عزم (کمٹمنٹ) سے انکار کر دیا۔ لیٹر نے کہا کہ ان کی ترجیح صرف اسرائیل کے شہریوں کی سیکورٹی یقینی بنانا ہے اور جب تک سرحد پار سے حملے جاری رہیں گے، تب تک فوجی کارروائی روکی نہیں جائے گی۔ انہوں نے حزب اللہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی سیکورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ مستقبل میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان بہتر اور رسمی تعلقات بننے کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

لبنان کی سرکاری ایجنسی کے مطابق، یہ مذاکرات سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور مستقل حل کی سمت میں ایک ابتدائی کوشش ہیں۔ دونوں فریقین آنے والے ہفتوں میں دوبارہ بات چیت کے لیے مل سکتے ہیں۔ اس بات چیت سے بھلے ہی فوری طور پر جنگ بندی کا راستہ نہ نکلا ہو، لیکن مذاکرات کی بحالی اپنے آپ میں ایک مثبت اشارہ ہے، جو مستقبل میں امن کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande