
واشنگٹن،13اپریل(ہ س)۔
سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے جنوب میں ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں واقع ’عقاب 44‘ نامی خفیہ زیرِ زمین فضائی اڈے کو گذشتہ مارچ کے آخر میں فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، یہ ایک ایسا حملہ تھا جس کا پہلے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق تصاویر میں پہاڑی سلسلے کے نیچے چھپائے گئے طیاروں کی پناہ گاہوں کی طرف جانے والی سرنگوں کے داخلی راستوں پر فضائی حملوں کے نتیجے میں پڑنے والے گڑھے دکھائی دے رہے ہیں۔ انداوں کے مطابق ان نقصانات نے رن وے تک رسائی کو معطل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں طیارے اڈے کے اندر ہی پھنس کر رہ گئے ہیں۔
تصاویر سے اس فوجی تنصیب کے اندر جاری تعمیراتی کام سے وابستہ ایک عمارت کی تباہی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس کے علاوہ رن وے پر مٹی کے ڈھیر اور چھوٹی رکاوٹیں بھی نظر آ رہی ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانی افواج نے دشمن کے طیاروں کو لینڈنگ سے روکنے کے لیے وہاں رکھی ہیں۔اخبار نے مارچ کے دوران لی گئی کئی تصاویر کا جائزہ لیا جن میں مہینے کے اختتام تک طیاروں کی نقل و حرکت کے راستوں پر نئے نقصانات ظاہر ہوئے، جبکہ سرنگوں کے کچھ داخلی راستے تنازع کے ابتدائی مراحل کے دوران بھی حملوں کا نشانہ بن چکے تھے۔ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے دوران عام طور پر جو صورتحال ہوتی ہے اس کے برعکس، اس حملے کی عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی کوئی وڈیو سامنے نہیں آئی، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف سیٹلائٹ تصاویر نے ہی ان نقصانات کی حد کو دستاویزی شکل دی ہے۔امریکی یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس آپریشن کے حوالے سے اخبار کی درخواستوں پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
یہ اڈہ ایران کے جنوب میں صوبے ہرمزگان میں آبنائے ہرمز سے تقریباً 160 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ اس زیرِ زمین فوجی مقام کی تعمیر کا کام 2013 میں شروع ہوا تھا، جس کے آٹھ سال بعد رن وے کی تعمیر شروع ہوئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے 2023 میں ایسی فوٹیج نشر کی تھی جس میں اڈے کے اندر لڑاکا طیارے اور ڈرون دکھائے گئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan