ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور آئندہ چند دنوں میں متوقع : امریکی میڈیاکا دعویٰ
واشنگٹن،13اپریل(ہ س)۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے واقف حکام نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تیزی سے کوششیں کر رہے ہیں، یہ کوششیں اسلام آباد میں ہونے والے طویل امن مذاکرات کے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو
ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور آئندہ چند دنوں میں متوقع : امریکی میڈیاکا دعویٰ


واشنگٹن،13اپریل(ہ س)۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے واقف حکام نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تیزی سے کوششیں کر رہے ہیں، یہ کوششیں اسلام آباد میں ہونے والے طویل امن مذاکرات کے بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے کے بعد کی جا رہی ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کی سخت بیانات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ چند دنوں میں بات چیت کا دوسرا دور منعقد ہو۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں تاکہ اس کمزور جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے، جو منگل کی شام اعلان کی گئی تھی اور دو ہفتوں پر مشتمل ہے۔مزید کہا گیا کہ اسلام آباد مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد سب سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات تھے، جن میں آبنائے ہرمز کو بغیر فیس کھولنے، انتہائی افزودہ یورینیم کے مستقبل اور ایران کی جانب سے منجمد تقریباً 27 ارب ڈالر فنڈز کے ریلیز جیسے امور پر بات چیت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ایران نے محدود سطح پر افزودگی جاری رکھنے یا اپنے ذخائر کم کرنے کی تجویز دی، تاہم کوئی مشترکہ حل سامنے نہیں آ سکا۔دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود دونوں فریق جنگ کے خاتمے پر متفق نہ ہو سکے، تاہم جنگ بندی کی پاسداری جاری رہی جو دو ہفتوں تک مو¿ثر ہے۔پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی اس جنگ بندی کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔امریکی وفد کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران کو آخری اور بہترین پیشکش دی ہے، جبکہ ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا نے ایران کا اعتماد حاصل نہیں کیا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ان کا ملک آئندہ دنوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور رابطے میں سہولت کاری جاری رکھے گا۔ایرانی سرکاری ٹی وی نے مذاکرات کی ناکامی کی وجہ امریکی غیر معقول مطالبات کو قرار دیا، جبکہ ایرانی حکام نے کہا کہ ایک نشست میں مکمل معاہدے کی توقع نہیں تھی۔

بعد ازاں ایران نے امریکا پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے غیر حقیقی مطالبات کر رہا ہے، جو عالمی تیل کی بڑی گزرگاہ ہے۔سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ایک فریق اپنی شرائط دوسرے پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا رہے۔

مذاکرات کے دوران ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے جنگ میں ایرانی کمانڈروں کو قتل کرنے اور عسکری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے ذریعے فتح حاصل کر لی ہے۔انہوں نے کہا: چاہے معاہدہ ہو یا نہ ہو، میرے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ہم جیت چکے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت ماضی میں خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے کی اور وہ اس بار بھی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ وفد میں شامل تھے۔

دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف نے کی جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت 70 ارکان شامل تھے۔ایران کے مطالبات میں مکمل جنگ بندی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ شامل تھا۔آبنائے ہرمز کا مستقبل بھی دونوں فریقوں کے درمیان ایک اہم اختلافی نکتہ رہا، کیونکہ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اسے عملاً بند کر دیا تھا، جبکہ امریکا مکمل طور پر اسے دوبارہ کھولنے اور بحری آمد و رفت کی آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے۔امریکی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس کے دو جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تاکہ بارودی سرنگوں کو صاف کیا جا سکے اور بحری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔تاہم ایرانی افواج نے کسی بھی امریکی جنگی جہاز کے داخل ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے صرف شہری جہازوں کو خصوصی ضوابط کے تحت گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔دوسری جانب برطانیہ اور عمان نے امریکا ایران جنگ میں ناکام مذاکرات کے باوجود جنگ بندی جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے درمیان گفتگو کے بعد سامنے آئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande