
کھٹمنڈو، 13 اپریل (ہ س)۔ نیپال کے سرحدی ضلع سرلاہی میں تمام سیاسی جماعتوں نے ضلع کے اندر ہندوستانی گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو واپس
لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو ضلع میں منعقدہ ایک آل پارٹی میٹنگ کے دوران نیپال کی حکومت کے اس فیصلے پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے اور اس پر فوری نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا۔
درا صل سرلاہی کے مقامی باشندے 30 کلومیٹر کے دائرے میں اپنے سفر کے لیے طویل عرصے سے ہندوستانی لائسنس پلیٹ والی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس پابندی کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کرنے کے لیے خصوصی طور پر آل پارٹی اجلاس بلایا گیا۔ میٹنگ کے دوران یہ دلیل دی گئی کہ اس فیصلے سے نیپال اور ہندوستان کے درمیان صدیوں پرانے بیٹی روٹی کے تعلقات پر منفی اثر پڑے گا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس فیصلے سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ سماجی اور اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی، شرکاء نے اس فیصلے کو واپس لینے پر زور دیا۔
آل پارٹی اجلاس کے دوران الزام لگایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ دفتر سرلاہی نے امن و امان برقرار رکھنے کے بہانے اس سہولت کو بند کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ اسکے علاوہ کسٹم ڈیوٹی ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کی آمد پر پابندی کی پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ میٹنگ کا اختتام اس مطالبے کے ساتھ ہوا جس میں ضلعی انتظامیہ کے دفتر پر زور دیا گیا کہ وہ ہندوستانی رجسٹرڈ گاڑیوں کو چلانے کی اجازت دے، انہیں پہلے کی طرح کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ مزید برآں انتباہ جاری کیا گیا کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مرحلہ وار احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد