
علی گڑھ, 26 مارچ (ہ س)۔
مرکز تحقیقات فارسی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام ”انیسویں صدی میں ہندوستان اور ایران میں فارسی زبان و ادب کے مروجہ رجحانات“موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سمینار کا افتتاحی اجلاس یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پروگرام کی ابتدا مرکز تحقیقات فارسی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد عثمان غنی کے خیرمقدمی کلمات سے ہوئی جس میں انھوں نے سمینار کے اغراض و مقاصد کا ذکر کیا اور انیسویں صدی عیسوی کے قیام اور درباری زبان کے علاوہ سرکار زبان کی حیثیت سے متروک ہونے کی وجہ پر بھی روشنی ڈالی، ساتھ ہی اس دور کے فارسی ادب بالخصوص شاعروں اور ادیبوں کے احوال و آثار کابھی تذکرہ کیا۔
مرکز تحقیقات کی مشاور پروفیسر آزرمی دخت صفوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انیسویں صدی کے فارسی ادب نے ہندوستان میں ایک انقلاب برپا کردیا تھا۔ یہی وہ دور تھا جس میں ادیبوں اور شاعروں نے فارسی زبان و ادب کے ذریعہ دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ برطانوی حکومت کے زیر اثر فارسی زبان کی سرکاری حیثیت باقی نہیں رہی لیکن اس کے باوجود شاعروں اور ادیبوں نے آزادانہ طور پر تصنیفات و تالیفات میں گراں بہا گنجینہ عطا کیا۔ اب فارسی صرف شعرو اوب کی حدود تک محدود نہیں رہی بلکہ دیگر شعبوں میں بھی اس زبان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وہ دور تھا کہ جب ایران میں امیر کبیر نے دارالفنون اور روزنامہ نگاری وغیرہ کی ترویج و اشاعت میں اپنی خدمات انجام دیں اور ہندوستان میں ہمیں سرسید احمد خاں کی شخصیت نظر آتی ہے جنھوں نے مدرسۃ العلوم کے علاوہ فارسی متون کی تصحیح و تدوین کے فرائض انجام دیے۔ یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہوگا کہ شعر کی بہ نسبت نثر میں طبع آزمائی مشکل ترین عمل ہے۔ علی گڑھ ہی وہ ادارہ ہے جس کی بدولت سب سے پہلے ہندوستانی طلبا ایران گئے اور اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپنی گفتگو کے دوران انھوں نے ہندوستان سے جاری شدہ مجلات وغیرہ پر بھی روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر فرید الدین فرید عصر، کلچرل کاؤنسلر، جمہوریہ اسلامی ایران، نئی دہلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انیسویں صدی میں خیالی سفر نامے منظر عام پر آئے جن میں احتجاج تھا۔ اس دور میں یوروپین ادب کا ترجمہ بھی ہوا۔ اس دور سے اب تک کے ایرانی ادب میں سماج کی عکاسی ہوئی ہے۔ جنگ سے متعلق فارسی ادب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جنگ کی مخالفت اور اتحاد پر زور دیا جاتا ہے۔ جس طرح شمالی افریقہ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد وہاں کے ادبیوں نے بھی اسی بات پر زور دیا ہے کہ جنگ اچھی بات نہیں ہے۔ جنگ کی ضد میں ایران میں جو ادب تخلیق ہوا ہے اسے ادبیات دفاع مقدس کا نام دیا ہے۔ اس ادب کے عنوان سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ کی مخالفت کا درس دیتا ہے۔
پروفیسر فرحت حسن، دہلی یونیورسٹی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ میری تخلیق اور تحقیق کا تعلق مغل دورکی تاریخ سے ہے اس لیے مجھے فارسی ادب کے مطالعے کا موقع بھی ملتا ہے۔ ہند فارسی ادب کو ترجمہ کرتے وقت مؤرخین کی ضرورت ہوتی ہے۔ادب دراصل جذبات پر منحصر ہوتا ہے۔ انیسویں صدی کے بیشتر تذکرے خواتین پر تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ادب کی تخلیق میں خواتین کا اہم کردار ہوتا ہے۔ تازہ گوئی کی اصطلاح پر خوب زور دیا گیا ہے۔ مقامی راجاؤں پر مغلیہ حکومت کا گہر اثر مرتب ہوا کیوں کہ مغلوں کی زبان فارسی تھی اس لیے سرکاری زبان کے ساتھ ساتھ ادبی زبان بھی فارسی ہی تھی۔
ڈاکٹر قہر مان سلیمانی، ڈائرکٹر، پرشیئن ریسرچ سنٹر، ایران کلچر ہاؤس، نئی دہلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ انیسویں صدی میں صرف فارسی زبان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ادبیات میں بھی گراں قدر توسیع ہوئی۔ اس صدی کے مجلہ نسیم شمال میں نہ صرف شعرو ادب بلکہ متنوع موضوعات کو منظر عام پر لایاگیا۔
ڈاکٹر ادریس احمد،ڈائریکٹر، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انیسویں صدی کا فارسی ادب ہندوستان میں اہمیت کا حامل ہے لیکن برطانوی حکومت کے زیر اثر سرکاری زبان کا اس کا درجہ باقی نہ رہا۔ یہی وہ دور تھا کہ جب اردو شاعروں نے فارسی ادب میں بھی طبع آزمائی کی جن میں غالب دہلوی کا نام خصوصیت سے لیا جاسکتا ہے۔غالب نے شعرو ادب کے علاوہ لغت نویسی میں بھی طبع آزمائی کی۔
افتتاحی اجلاس میں پانچ کتابوں کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی، جن میں ”نقش زنان در ادبیات فارسی“، ”فہرست مطبوعات منشی نول کشور،مولانا آزاد لائبریری،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“،”جستار ہا در ادبیات ہند باستان“، ”انیس المحققین“، اور ”چہل مقالہئ عابد“ شامل ہیں۔
اپنے صدارتی کلمات میں پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں نے سمینار کی کامیابی کی مبارک باد پیش کی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ مرکز تحقیقات فارسی یونیورسٹی کا اہم مرکز ہے۔ یہی وہ مرکز ہے جس کے ذریعہ دونوں ممالک کی زبان و ادب،فرہنگ اور رسم و رواج کا تبادلہ ہوتا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اس مرکز کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے۔اس زبان کی ضرورت موجودہ دور کے زمین ریکارڈ کے ترجمہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
آخر میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد عثمان غنی نے تمام مندوبین اور شرکا ء کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد احتشام الدین نے انجام دیئے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ