
نئی دہلی، 26 مارچ(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی نے پالم آتشزدگی معاملے کو لے کر دہلی اسمبلی میں مبینہ جھوٹ بولنے پر بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اس معاملے کی جانچ ایس ڈی ایم کو سونپی تھی، لیکن اب تک رپورٹ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ رپورٹ کو عام کرنے کے بجائے وزیر اعلیٰ اور ان کے وزیر آشیش سود خود ہی تفتیشی افسر بن گئے ہیں اور 9 افراد کو کھونے والے متاثرہ خاندان کو ہی قصوروار قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ سب نے دیکھا کہ تیسری منزل پر لوگ کھڑے تھے، لیکن فائر ڈیپارٹمنٹ نے نہ تو حفاظتی جال بچھایا اور نہ ہی لوگوں کو گدے بچھا کر جان بچانے دی۔ ریکھا گپتا حکومت اسمبلی میں یہ جھوٹ بھی بول رہی ہے کہ گلی تنگ تھی، اس لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نہیں پہنچ سکیں، جبکہ حقیقت میں گلی کافی کشادہ تھی۔جمعرات کو آپ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پالم علاقے میں 18 مارچ کو لگی بھیانک آگ میں 9 افراد زندہ جل کر ہلاک ہو گئے۔ بی جے پی حکومت نے اس معاملے کی جانچ ایس ڈی ایم کو دے دی، لیکن آٹھ دن گزرنے کے باوجود اس جانچ کا نتیجہ سامنے نہیں لایا گیا۔ ایس ڈی ایم کی جانچ کے علاوہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزیر آشیش سود خود ہی تفتیشی افسر بن کر نتائج پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وزیر آشیش سود ہیں جو جنک پوری میں کمل دھیانی کے گڑھے میں گرنے سے موت کے معاملے میں سب سے پہلے پہنچے تھے اور کہا تھا کہ گڑھے کے چاروں طرف لوہے کی بیریکیڈنگ تھی اور تمام حفاظتی انتظامات دہلی جل بورڈ نے کیے تھے، پھر وہ کیسے گر گیا؟ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ کسی کا 26 سالہ بیٹا فوت ہو گیا اور وزیر یہ کہہ رہے ہیں کہ سب انتظامات مکمل تھے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پالم آتشزدگی میں اصل الزام فائر ڈیپارٹمنٹ پر ہے کہ اس کی نااہلی کے باعث 9 لوگوں کو بچایا نہیں جا سکا۔ ان کے پاس حفاظتی جال موجود ہوتا ہے، لیکن اس کا استعمال نہیں کیا گیا اور مقامی لوگوں کو نیچے گدے بچھانے بھی نہیں دیے گئے۔ اب ایس ڈی ایم رپورٹ کے نام پر وہی باتیں دہرائی جا رہی ہیں جو خود فائر ڈیپارٹمنٹ کہہ رہا ہے، جس پر لاپروائی کے الزامات ہیں۔ اسی محکمے کی باتوں کو وزیر اور وزیر اعلیٰ اپنی رپورٹ بتا کر پیش کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندان کو ہی اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے گھر میں آگ لگتی ہے تو اسے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر آشیش سود اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ وہ گدھ سیاست نہیں کرتے، مگر ان کے بیانات اور اقدامات اس کے برعکس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گھر میں صرف ایک سیڑھی تھی۔ کیا ہر گھر میں سیڑھی باہر سے بنائی جاتی ہے؟ کوئی بھی شخص چوروں کو دعوت دینے کے لیے باہر سے راستہ نہیں بناتا۔ اس طرح کے بیانات سراسر غیر ذمہ دارانہ ہیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ حکومت کے لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہاں کوئی خطرناک کیمیکل موجود تھا۔ کیا وہاں آر ڈی ایکس، ڈیزل یا پٹرول کا ٹینکر رکھا تھا؟ وہاں تو صرف ہوزری اور کاسمیٹک کی دکان تھی، جہاں نیل پالش اور معمولی پرفیوم جیسی اشیاءموجود تھیں۔ کیا ایسی دکان چلانے والوں کو بچانا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ حکومت کہتی ہے کہ مجسٹریٹ انکوائری کر دی گئی ہے، لیکن وہ رپورٹ کہاں ہے؟ دراصل وہ اسی فائر بریگیڈ کی رپورٹ پڑھ رہے ہیں جس پر لاپروائی کے الزامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت یہ بھی کہہ رہی ہے کہ یہ غیر مجاز کالونی اور تنگ گلیاں تھیں، اس لیے آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گلی کم از کم 30 فٹ چوڑی تھی۔ صبح سات بجے کا وقت تھا، نہ دکانیں کھلی تھیں، نہ ٹریفک تھا، اس کے باوجود یہ دعوے کیے جا رہے ہیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ شروع دن سے گلیوں کو تنگ بتا رہے ہیں، کیونکہ پہلے جھگی بستیوں پر بلڈوزر چلانے کے بعد اب غیر مجاز کالونیوں پر بھی کارروائی کی نیت بنائی جا رہی ہے۔ جبکہ گریٹر کیلاش، سا¶تھ ایکس اور ڈیفنس کالونی جیسی جگہوں پر بھی اتنی ہی چوڑی گلیاں ہیں جتنی وہاں تھیں۔انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ اور حکومت دونوں جھوٹ بول رہے ہیں۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو لوگوں کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ مگر اپنی نااہلی چھپانے کے لیے اب متاثرین کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ 7:30 بجے لگی، جبکہ عینی شاہدین کے مطابق آگ صبح 6 سے 6:30 کے درمیان لگی تھی۔ اسی طرح گاڑیاں بھی وقت پر نہیں پہنچیں۔سوربھ بھاردواج نے مطالبہ کیا کہ فائر اسٹیشن اور سڑکوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے جائیں، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ ان کے مطابق صرف دو گاڑیاں موقع پر پہنچی تھیں، جبکہ رپورٹ میں زیادہ گاڑیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بروقت سیڑھیاں، حفاظتی جال اور دیگر سازوسامان استعمال کیا جاتا تو لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ مگر نہ مناسب تربیت تھی، نہ آلات اور نہ ہی بروقت کارروائی کی گئی۔آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جھوٹے دعوے کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بروقت کارروائی سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais