
ممبئی ، 26 مارچ (ہ س) ۔ مہاراشٹر کے سینئر مورخ ڈاکٹر جے سنگراؤ پوار کے انتقال کر گئے، ان کے انتقال سے ریاست کی علمی دنیا کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں تک مراٹھا تاریخ کی تحقیق، تحریر اور ترویج میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی علمی خدمات کے ذریعے ایک مضبوط ورثہ چھوڑا۔ڈاکٹر پوار نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف معروف تاریخی موضوعات کو اجاگر کیا بلکہ ایسے کرداروں پر بھی روشنی ڈالی جو کم معروف تھے، جن میں مہارانی تارابائی، راجارام مہاراج اور سیناپتی سنتاجی گھورپڑے شامل ہیں۔ ان کی تحقیقی کاوشوں نے مراٹھا تاریخ کے کئی پہلوؤں کو نئی جہت دی۔ انہوں نے راجارشی شاہو میموریل والیوم کی تدوین اور تصنیف کے ذریعے تاریخی دستاویز سازی میں نمایاں معیار قائم کیا۔ شاہو مہاراج کی خدمات کو عام لوگوں تک پہنچانا ان کا اہم مقصد تھا، جس کے لیے انہوں نے اس کام کو مختلف زبانوں میں شائع کروا کر وسیع سطح پر متعارف کرایا۔ڈاکٹر پوار کی خدمات صرف تحریر تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے مختلف اداروں میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ راجارشی شاہو میموریل ہال کے ڈائریکٹر رہے اور شیواجی یونیورسٹی کے شاہو ریسرچ سینٹر کی قیادت کرتے ہوئے تحقیق کے میدان میں اہم رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے کئی طلبہ اور محققین کی تربیت کی اور انہیں تاریخ نویسی کے اصول سکھائے، جس کے باعث وہ ایک قابل احترام استاد اور رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔ مراٹھا بہوجن سماج کی مستند تاریخ کو عام کرنے کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے