مجھے گالیاں دے کر حکومت میں آئے، اگلے چار سال بھی یہی کریں گے، نہ حکومت چلانی آتی ہے نہ ان کو خواہش ہے: اروند کیجریوال
نئی دہلی، 26 مارچ:(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گزشتہ ایک سال سے پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان دہلی والوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ راجندر نگر اسمبلی کے کچھ علاقوں میں کئی دنوں سے پانی نہ آنے کی مقامی لو
مجھے گالیاں دے کر حکومت میں آئے، اگلے چار سال بھی یہی کریں گے، نہ حکومت چلانی آتی ہے نہ ان کو خواہش ہے: اروند کیجریوال


نئی دہلی، 26 مارچ:(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گزشتہ ایک سال سے پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان دہلی والوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ راجندر نگر اسمبلی کے کچھ علاقوں میں کئی دنوں سے پانی نہ آنے کی مقامی لوگوں کی شکایات پر انہوں نے بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ مجھے گالیاں دے دے کر ہی حکومت میں آئے تھے اور اگلے چار سال بھی صرف مجھے ہی گالیاں دیتے رہیں گے۔ انہیں نہ حکومت چلانی آتی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی نیت ہے۔ دہلی کے لوگ انہیں ووٹ دے کر خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔اروند کیجریوال نے راجندر نگر کے ایک رہائشی کی جانب سے پانی نہ آنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی شکایت کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے، ان لوگوں نے دہلی والوں کی زندگی کس طرح جہنم بنا دی ہے۔ انہوں نے دہلی کا برا حال کر دیا ہے۔ اپنی ایک سالہ حکومت میں انہوں نے صرف تین کام کیے ہیں،کیجریوال کو گالی دینا، کیجریوال کو مزید گالی دینا، اور کیجریوال کو بھدی بھدی گالیاں دینا۔ مجھے گالیاں دے کر ہی یہ حکومت میں آئے تھے اور اگلے چار سال بھی یہی کرتے رہیں گے۔ انہیں نہ حکومت چلانی آتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی خواہش ہے۔ دہلی کے لوگ انہیں ووٹ دے کر خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ ادھر، عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مہوا موئترا نے ایکس پر دھُرندھر-4 پوسٹ کیا ہے۔ جب میں یہاں آیا، تب تک اس ویڈیو پر تین ملین ویوز ہو چکے تھے۔ اس ویڈیو میں وزیر اعظم کے کردار پر جو الزامات لگائے گئے ہیں، وہ انتہائی سنگین ہیں۔ ہم چاہیں گے کہ اس معاملے پر وزیر اعظم ملک کے سامنے اپنی بات رکھیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی کون سی ایجنسی ہو سکتی ہے جو ان الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ کر سکے؟ کیونکہ سی بی آئی، خواتین کمیشن اور پولیس سبھی حکومت اور وزیر اعظم کے ماتحت ہیں۔ ایسے میں ان سنگین الزامات کی جانچ کیسے ممکن ہوگی؟ آج یہ سوال دھُرندھر-4 کی صورت میں ملک کے سامنے کھڑا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande