تلنگانہ اسمبلی میں ہنگامہ ، کے ٹی آر اور نا ئب وزیراعلی کے درمیان لفظی جنگ
تلنگانہ اسمبلی میں ہنگامہ ، کے ٹی آر اور نا ئب وزیراعلی کے درمیان لفظی جنگحیدرآباد، 18 مارچ (ہ س) ۔تلنگانہ اسمبلی اجلاس کے دوران بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر اور نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا کے درمیان شدید لفظی جنگ دیکھنے کو ملی ۔ معاملہ خواتین
Uproar in Telangana Assembly, war of words between KTR and Deputy Chief Minister


تلنگانہ اسمبلی میں ہنگامہ ، کے ٹی آر اور نا ئب وزیراعلی کے درمیان لفظی جنگحیدرآباد، 18 مارچ (ہ س) ۔تلنگانہ اسمبلی اجلاس کے دوران بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر اور نائب وزیراعلی بھٹی وکرمارکا کے درمیان شدید لفظی جنگ دیکھنے کو ملی ۔ معاملہ خواتین کے گروپس کو دئیے گئے بلا سودی قرض کے دعوؤں پر شروع ہوا جو بعد میں سیاسی الزام تراشی اور چیلنج تک پہنچ گیا ۔ کے ٹی آر نے اسمبلی میں گورنر کے اظہار تشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے نا ئب وزیراعلی کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر 57 ہزار کروڑ روپئے کے سود سے پاک قرضے دینے سے متعلق جی او یا آرڈر کاپی بطور ثبوت پیش کی جائے تو وہ فوری اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اسمبلی اورعوام کو گمراہ کر رہی اور کہا کہ ریاست کی خواتین اس معاملے کو بغور دیکھ رہی ہیں ۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نا ئب وزیراعلی بھٹی وکرامارک نے کے ٹی آر پرسخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے 10 سالہ دور حکومت میں خواتین کو حقیقی معنوں میں با اختیار بنانے کچھ بھی نہیں کیا ۔ نا ئب وزیراعلی نے بی آر ایس ورکنگ صدر کے انداز گفتگو پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ریاست کی خواتین کی توہین کے مترادف قرار دیا ۔ وزیر خواتین و اطفال سیتااکا نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ویمن گروپس کو قرض کیلئے کئی رکاوٹوں کا سامنا تھا ۔ جنہیں اب کانگریس کی حکومت ختم کررہی ہے اور آسانیاں پیدا کررہی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت میں خواتین کے گروپس بہتر طریقے سے کام کررہی ہیں ۔ اس بحث کے دوران کے ٹی آر نے کانگریس کے دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 57 ہزار کروڑ روپئے کے قرض دینے کی بات غلط ہے ۔ کے ٹی آر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہوں نے سونیا گاندھی کو کبھی ’ بلی دیوتا ‘ نہیں کہا تھا ۔ اس پر ریاستی وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے ٹی آر حقائق کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ تکنیکی طور پر بی آر ایس حکومت نے قرض کی مد میں ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا ۔ اس بحث و تکرار میں ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی بھی شامل ہوگئے ۔ انہوں نے بی آر ایس حکومت اور کے ٹی آر دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اس لفظی جنگ میں کے ٹی آر نے اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کے وعدوں اور حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کیا ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande