

بھوپال، 18 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں بدھ کو کئی اہم تعلیمی اور طبی اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے سے افراتفری مچ گئی۔ تاہم، پولیس کی گہری جانچ کے بعد یہ دھمکی مکمل طور پر فرضی پائی گئی۔ معلومات کے مطابق، بدھ کی صبح تقریباً 10 بجے بھوپال میں واقع جے کے میڈیکل یونیورسٹی، ایل این سی ٹی یونیورسٹی، جے کے اسپتال اور ایل این میڈیکل کالج کو ان کی سرکاری ای میل آئی ڈی پر دھمکی آمیز میل بھیجا گیا۔ میل میں دعویٰ کیا گیا کہ احاطے میں 21 بم رکھے گئے ہیں اور اسلامی وقت کے مطابق نمازِ ظہر کے بعد، دوپہر 1.30 بجے سلسلہ وار دھماکے کیے جائیں گے۔ دھمکی کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں آگئی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کی ٹیموں نے تمام احاطوں میں تلاشی کی مہم چلائی۔ احتیاط کے طور پر اسپتال اور یونیورسٹیوں کی عمارتیں خالی کرائی گئیں، جس سے کچھ دیر کے لیے افراتفری کا ماحول بن گیا۔ جانچ کے دوران کہیں بھی کوئی مشتبہ شے نہیں ملی، جس کے بعد پولیس نے اسے فرضی دھمکی قرار دے دیا۔ اسی دوران اٹل بہاری واجپئی ہندی یونیورسٹی اور اریرا ہلز میں واقع محکمہ کمرشل ٹیکس کے دفتر کو بھی اسی طرح کے دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری طور پر احاطہ خالی کرا کر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد وہاں بھی سرچ آپریشن چلایا گیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ بھوپال میں اس طرح کی دھمکیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس سے پہلے پیپلز یونیورسٹی، محکمہ اوزان و پیمائش کے دفتر اور ایمز اسپتال کو بھی ای میل کے ذریعے بم سے اڑانے کی دھمکی مل چکی ہے۔ تمام معاملات میں جانچ کے بعد کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا، لیکن اب تک ای میل بھیجنے والے ملزموں کا سراغ نہیں لگ سکا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، ان واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سائبر سیل کی مدد سے ای میل بھیجنے والوں کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلسل ملنے والی فرضی دھمکیوں کے پیشِ نظر حفاظتی ایجنسیاں الرٹ پر ہیں اور اہم اداروں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن