
بھوپال، 18 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں جن سیوا متروں کو ہٹانے کے فیصلے کو لے کر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کے صوبائی صدر جیتو پٹواری نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔
جیتو پٹواری نے بدھ کے روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش میں تقریباً 9390 جن سیوا متر برسوں سے تربیت یافتہ ہو کر زمینی سطح پر عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کام کر رہے تھے۔ ان نوجوانوں کو اچانک ہٹانا نہ صرف بدقسمتی ہے، بلکہ حکومت کی بے حسی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف حکومت روزگار دینے کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، وہیں دوسری طرف پہلے سے کام کرنے والے اور تجربہ کار نوجوانوں کو ہٹا کر ’سی ایم ینگ انٹرن‘ جیسی عارضی اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ اس سے حکومت کی نیت اور پالیسیوں پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
پی سی سی چیف پٹواری کے مطابق، نوجوانوں کو مستقل روزگار، وقار اور محفوظ مستقبل کی ضرورت ہے، نہ کہ عارضی اسکیموں اور غیر یقینی صورتحال کی۔ ایسے فیصلے نہ صرف نوجوانوں کا بھروسہ توڑتے ہیں، بلکہ سماجی اور معاشی عدم اطمینان کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر نظرِ ثانی کی جائے اور تمام جن سیوا متروں کو بحال کر کے ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن