
بیتیا،18مارچ(ہ س)۔بہار کےبیتیا میں پولیس اور گاؤں والوں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب پولیس ایک ملزم کو گرفتار کرنے پہنچی۔ گاؤں والوں نے پولیس پر جھوٹے مقدمہ پھنسانےکا الزام لگاتے ہوئے پتھرا ؤکر دیا ۔جھڑپ میں ایک خاتون زخمی ہوئی اور اس کا علاج جی این ایم سی ایچ میں کیا جا رہا ہے۔ صدر ایس ڈی پی او وویک دیپ جائے وقوعہ پر پہنچ کر معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔
واقعہ کمارباغ تھانہ علاقہ کے مہوا گاؤں میں پیش آیا ۔ بانو چھاپر تھانہ کی پولیس ایک نوجوان کو گرفتار کرنے پہنچی تھی۔ گاؤں والوں نے پولیس کی گاڑی کو گھیر لیا۔ صورتحال اس قدر بڑھ گئی کہ پولیس اہلکاروں کو اپنی گاڑی چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ مشتعل گاؤں والوں نے پولیس کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے اور تقریباً تین گھنٹے تک یرغمال بنا کر رکھا۔ پولیس کی دوسری گاڑی پہنچی تو اسے بھی لوگوں نے گھیر لیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر گاؤں میں ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) سمیت نصف درجن تھانوں کی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس سنجے کمار کشواہا ولد بھیکھم مہتو کو گرفتار کر کے لے جا رہی تھی۔ اسی دوران سنجے کی ماں پنمتی کنور، کنبہ کے افراد اور گاؤں والوں نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس کی گاڑی کے سامنے آگئے۔ گاؤں والوں کا الزام ہے کہ جب سنجے کی ماں پنمتی کنور اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے پولیس کی گاڑی کے سامنے آئی تو گاڑی کی زد میں شدید زکمی ہوگئی۔ زخمی خاتون کو کچھ دیر تک پولیس کی گاڑی میں رکھا گیا، جس سے گاؤں والے مشتعل ہوگئے، جنہوں نے پولیس گاڑی کو گھیرے میں لے کر اسے یرغمال بنا لیا۔
سنجے کمار کشواہا نے بتایا کہ جب میری والدہ نے احتجاج کی تو پولیس میری ماں پر گاڑ ی چڑھا دی ۔ وہ اسپتال میں تشویشناک حالت میں ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ زندہ رہے گی یا نہیں۔ اس کے بعد پولیس مجھے لے گئی۔ پولیس مجھے گاڑی میں لیکر ادھر ادھر گھومتی رہی ۔ تیراوتیا چوک پر ہوتے ہوئے آگے کے چوک پر لے گئی اور میرے ساتھ مارپیٹ کی ۔
لوگوں کے احتجاج اور انتظامیہ کے پہنچنے کے بعد ہی مجھے رہا کیا گیا۔ انتظامیہ نے معاملے کی جانچ کر کے کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔ پولیس نےمیرے ساتھ مارپیٹ کیوںکی ۔ گاؤں کی ایک لڑکی بھاگنے کے معاملے میں یہ سب ہوا۔ لیکن مجھے اس معاملہ کے بارے میں کچھ معلوم نہیںہے۔
سنجے کی بیوی رانی دیوی نے الزام لگایا ہے کہ ان کے شوہر کو پڑوسی کی بیٹی کے گھر سے بھاگنے کے معاملے میں جھوٹا پھنسایا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رانی دیوی نے یہ بھی بتایا کہ لڑکی کے گھر والوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے جیویکا گروپ سے 5000 روپے ادھار لیے تھے۔ اس رقم کے لین دین کو لے کر تنازعہ ہوا۔
دریں اثنا اطلاع پر پہنچے صدر ایس ڈی پی او نے بتایا کہ ٹیم رقم کے لین دین کی جانچ کے لیے گاؤں پہنچی ہے۔ اس دوران ملزم کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے پولیس کی کارروائی پر احتجاج کیا اور ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران ملزم کی والدہ زخمی ہو گئیں۔ زخمی خاتون کا فی الحال علاج چل رہا ہے، اور پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan