
حیدرآباد، 18 مارچ(ہ س)۔حیدرآباد میں گیس کی قلت کے نتیجہ میں آئی ٹی کمپنیوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور جلدہی آئی ٹی کمپنیوں سے ملازمین کو ’ورک فرم ہوم‘ کی اجازت دیئے جانے کا امکان ہے۔ ہاسٹل ایسوسیشن کے ذمہ داروں نے بتایا کہ کمرشیل گیس کی سپلائی میں رکاوٹیں دور نہیں کی جاتی ہیں تو گچی باؤلی ‘ مادھا پور‘ مدینہ گوڑہ ‘ سائبر آباد ‘ شیخ پیٹ و دیگر کئی علاقوں میں موجود ہاسٹلس میں مقیم آئی ٹی ملازمین کو ’ورک فرم ہوم‘ کی شدت کے ساتھ ضرورت محسوس ہوگی ۔ کہا جارہا ہے کہ آئندہ چند یوم میں ملازمین کی جانب سے ہی کمپنی سے خواہش کی جائے گی کہ انہیں ’ورک فرم ہوم‘ کی اجازت دی جائے کیونکہ پی جی گیسٹ ہاؤز ‘کے علاوہ ہاسٹل جہاں رہتے ہوئے وہ ملازمت کر رہے ہیں ان گیسٹ ہاؤزیا ہاسٹل میں انہیں اب غذاء کی سربراہی بند ہوچکی ہے یا مہنگی ہوچکی ہے اسی لئے وہ اپنے اخراجات کی پابجائی کے متحمل نہیں ہیں ۔بتایاجاتاہے کہ دونوں شہروں میں زائد از 11 ہزار پی جی ہاسٹلس موجود ہیں جن میں لاکھوں کی تعداد میں طلبہ اور ملازمین مقیم رہ کر تعلیم اور ملازمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ہاسٹلس میں مقیم ملازمین نے اپنی کمپنیوں میں ذمہ داروں سے ’ورک فرم ہوم‘ کی اجازت کیلئے کوششوں کا آغاز کردیا ۔ بیشتر پی جی ہاسٹل میں گیس کے سواء پکوان کے دوسرے متبادل موجود نہ ہونے کے سبب ہاسٹل ذمہ دار کچن مکمل بند کرچکے ہیں جن ہاسٹلس کے آس پاس ان کی اپنی یا کھلی اراضی ہے تو ان ہاسٹلس نے لکڑی پر پکوان کا سلسلہ شروع کیاہے لیکن ہاسٹل میں مقیم نوجوانو ں کو جوعام طور پر اپنی مرضی کے وقت پر کھاتے ہیں انہیں لکڑی کے پکوان کے سبب دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ذرائع کے مطابق پی جی ہاسٹلس میں مقیم طلبہ کو جلد راحت حاصل ہوگی کیونکہ بیشترجماعتوں کے سالانہ امتحان جاری ہیں اور ان امتحانات کے بعد گرمائی تعطیلات کا آغاز ہوجائیگا۔ اس طرح طلبہ کے مسئلہ سے ہاسٹل انتظامیہ کو نجات لے گی لیکن ملازمین کا مسئلہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق