
علی گڑھ, 17 مارچ (ہ س)بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ادارہ جاتی شکایات کمیٹی نے ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز کے اشتراک سے ”قانون، خواتین کے حقوق اور عدالت: میدان سے بیانیے“ عنوان پر ایک آن لائن استعداد کار اضافہ ورکشاپ منعقد کی۔ یہ ورکشاپ یوجی سی جینڈر چیمپیئن اسکیم کے تحت منعقد کی گئی، جو وزارتِ خواتین و اطفال بہبود اور وزارتِ تعلیم کا مشترکہ اقدام ہے۔
اس موقع پر سپریم کورٹ آف انڈیا کی وکیل سنچیتا این نے اپنے خطاب میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ عدالتی بیانیے اکثر مروجہ سماجی اقدار اور ساختی عدم مساوات سے متاثر ہوتے ہیں، جس سے انصاف تک خواتین کی رسائی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مختلف مقدمات کی مثالیں دیتے ہوئے واضح کیا کہ سماجی تربیت اور ادارہ جاتی جوابدہی قانونی تجربات کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے زیادہ جامع و معاون قانونی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔
فوجداری اور بچوں کے حقوق کی وکیل اسنیہا سنگھ نے صنفی دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرنے، خواتین کے اختیار کو بہتر کرنے اور مؤثر حفاظتی نظام کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے صنفی تعصبات کی روک تھام سے متعلق سپریم کورٹ کی رہنما کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائیوں میں زبان کا کردار نہایت اہم ہے، اور خواتین کو انصاف کی بہتر فراہمی کے لیے ہمدردانہ اور جامع رویے اپنانے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل اپنے ابتدائی کلمات میں ادارہ جاتی شکایات کمیٹی کی پریزائڈنگ آفیسر پروفیسر ثمینہ خان نے ایک جامع اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے باہمی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پروفیسر عذرا موسوی، ڈائریکٹر، ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز نے طلبہ کے مسائل کے حل میں ادارہ جاتی پلیٹ فارمز کے کردار پر زور دیا۔
نشست کے دوران شرکاء کو اہم قانونی مسائل اور عملی چیلنجوں پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ آخر میں مسٹر شیراز احمد، اسسٹنٹ پروفیسر، ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز نے اظہار تشکر کیا۔ ورکشاپ کے کوارڈنیٹر مسٹر شیراز احمد اور ڈاکٹر توصیف فاطمہ تھے۔ مسٹر ہرشِت اگروال نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ