جیل سے ہوئی رہائی نے مرکز اور لداخ کے عوام کے درمیان بامعنی بات چیت کی راہ ہموار کی ہے۔ سونم وانگچک
جیل سے ہوئی رہائی نے مرکز اور لداخ کے عوام کے درمیان بامعنی بات چیت کی راہ ہموار کی ہے۔ سونم وانگچک لداخ، 17 مارچ (ہ س)۔ لداخ کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے جیل سے رہائی کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا ہے کہ ان کی نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این
Wangchuk


جیل سے ہوئی رہائی نے مرکز اور لداخ کے عوام کے درمیان بامعنی بات چیت کی راہ ہموار کی ہے۔ سونم وانگچک

لداخ، 17 مارچ (ہ س)۔ لداخ کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے جیل سے رہائی کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا ہے کہ ان کی نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست ختم کیا جانا ایک “وِن وِن” صورتحال ہے اور اس سے مرکز اور لداخ کے عوام کے درمیان بامعنی بات چیت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اپنی اہلیہ اور ایچ آئی اے ایل کی شریک بانی گیتانجلی جے انگمو کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوراج وانگچک نے کہا کہ لداخ میں جاری تحریکوں کا مقصد صرف اور صرف تعمیری مکالمے کا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں عدالت میں کامیابی کی امید تھی، لیکن وہ صرف جیت نہیں بلکہ ایک ایسی صورتحال چاہتے تھے جس میں دونوں فریق مطمئن ہوں۔ انہوں نے حکومت کے اقدام کو اعتماد سازی کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بامعنی اور تعمیری بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ وانگچک نے کہا کہ لداخ کے عوام نے مکالمے کے آغاز کے لیے طویل جدوجہد کی، جس میں دہلی تک مارچ اور بھوک ہڑتال جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر لوگ ہتھیار اٹھاتے ہیں اور حکومت بات چیت کی اپیل کرتی ہے، لیکن یہاں عوام خود حکومت سے مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اپنے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد لداخ کا دورہ کریں گے اور لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے، جو گزشتہ پانچ برسوں سے ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے مطالبے پر تحریک چلا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ بھوک ہڑتال نہیں کرنا چاہتے، لیکن حالات انہیں اس پر مجبور کرتے ہیں۔ تاہم اب جبکہ حکومت نے بات چیت کے لیے قدم بڑھایا ہے، انہیں امید ہے کہ مثبت پیش رفت ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ 59 سالہ وانگچک کو گزشتہ سال 26 ستمبر کو این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں ہفتہ کے روز جودھپور سینٹرل جیل سے اس وقت رہا کیا گیا جب مرکزی حکومت نے ان کی حراست کو فوری طور پر منسوخ کر دیا۔ دریں اثنا، لیہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے پیر کو اگلے دور کی بات چیت کے مطالبے پر ریلیاں نکالی گئیں اور ہڑتال کی گئی۔ قبل ازیں 4 فروری کو وزیر مملکت برائے داخلہ نیتیانند رائے کی سربراہی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی میٹنگ میں وانگچک سمیت 70 دیگر افراد کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande