
ایم پی حکومت کی پالیسیاں کسانوں کے مفاد میں نہیں، کسانوں کے مسائل پر کانگریس کا بڑا حملہ
بھوپال، 17 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع صوبائی کانگریس دفتر میں منگل کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور سابق رکن اسمبلی کنال چودھری نے کسانوں کے مسائل کو لے کر مرکزی اور مدھیہ پردیش حکومت پر سخت حملہ بولا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیاں کسانوں کے مفاد میں نہیں بلکہ انہیں قرض اور معاشی بحران میں دھکیلنے کا کام کر رہی ہیں۔
کنال چودھری نے کہا کہ ریاست میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر فصلوں کی خریداری میں بھاری بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ حکومت نے کسانوں کو 575 روپے فی کوئنٹل بونس دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن صرف 40 روپے بڑھا کر کسانوں کے ساتھ ”دھوکہ“ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورا 575 روپے بونس فوری طور پر دیا جائے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی حکومت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں ایم ایس پی میں مسلسل 33 فیصد سے 45 فیصد تک اضافہ کیا گیا اور تقریباً 70,000 کروڑ روپے کا قرض معاف کر کے کسانوں کو راحت دی گئی تھی۔
کنال چودھری نے گیہوں کی خریداری کی تاریخ 16 مارچ سے بڑھا کر یکم اپریل کرنے کے فیصلے کو کسانوں کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خریداری کی مدت بڑھا کر 31 اپریل تک کی جائے تاکہ کسانوں کو کافی وقت مل سکے۔ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے منائے جا رہے ”کرشی کلیان ورش“ (زرعی بہبود سال) پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ”کسان استحصال سال“ بن گیا ہے، جہاں کسانوں کو راحت دینے کے بجائے انہیں قرض اور سود کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان پر بھی حملہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کے نام پر قرض دے کر ان کے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے۔ کنال چودھری نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں اور عالمی حالات کا براہِ راست اثر کسانوں پر پڑ سکتا ہے۔ غیر ملکی زرعی مصنوعات کی درآمد بڑھنے سے مکئی، سویا بین اور کپاس جیسی فصلوں کی قیمتیں متاثر ہوں گی۔ انہوں نے وارننگ دی کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس سے ڈیزل مہنگا ہوگا اور کھیتی کی لاگت بڑھے گی۔ ساتھ ہی ڈی اے پی اور یوریا جیسی کھادوں کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گنا میں واقع این ایف ایل پلانٹ میں گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے پیداوار گھٹی ہے، جس سے آنے والے خریف سیزن میں کھاد کا بحران گہرا سکتا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اس کا اثر ملک کی غذائی تحفظ پر بھی پڑے گا۔
کانگریس نے اس دوران کئی مطالبات کئے: انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم ایس پی پر 575 روپے فی کوئنٹل بونس نافذ کیا جائے۔ فصلوں کی خریداری فوری طور پر شروع کر کے وقت کے اندر مکمل کی جائے۔ خریداری کی آخری تاریخ بڑھائی جائے۔ کسانوں کو قرض اور سود کے جال سے نجات دلائی جائے۔ بین الاقوامی معاہدوں میں کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔ قرض کی قسط جمع کرنے کی آخری تاریخ 31 مارچ سے آگے بڑھائی جائے۔
کنال چودھری نے وارننگ دی کہ اگر حکومت نے جلد ٹھوس اقدامات نہیں کیے تو کانگریس پوری ریاست میں شدید احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسان آج قرض، بڑھتی ہوئی لاگت اور کم قیمتوں کے درمیان جدوجہد کر رہا ہے اور کانگریس ان کی لڑائی پوری طاقت سے لڑے گی۔ اس موقع پر ویویک ترپاٹھی، اونیش بندیلا اور راہل راج سمیت دیگر کانگریس لیڈر اور کارکنان بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن