
نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ نئی دہلی میں گزشتہ ہفتے منعقدہ اے آئی سمٹ کے اختتام پر جاری کردہ 'نئی دہلی اعلامیہ' کو اب تک 91 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی وزارت کے مطابق، ہندوستان نے اس پلیٹ فارم کے ذریعہ مساوی رسائی اور عالمی تعاون پر مبنی ”سب کے لئے اے آئی “ کے اپنے وژن کو فروغ دینے میں کامیابی کے ساتھ رہنمائی کی ہے۔ 21 فروری تک، اس اعلامیے پر 88 ممالک اور دو بڑی بین الاقوامی تنظیموں (یورپی یونین اور انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ) نے اتفاق کیا تھا۔ اس مشترکہ عالمی نقطہ نظر کی حمایت کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس، جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے طاقتور ممالک شامل ہیں۔
تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، تین مزید ممالک بنگلہ دیش، کوسٹا ریکا اور گوئٹے مالااس میں شامل ہو گئے ہیں ، جس سے دستخط کنندگان کی تعداد 91 ممالک اور تنظیموں تک پہنچ گئی ہے۔
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کے مطابق، اعلامیہ سات اہم کامیابیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ان میںمصنوعی ذہانت کی سب تک رسائی کا اعلامیہ، عالمی اثرات کا مشترکہ پلیٹ فارم ،قابل اعتماد نظام کا مشترکہ پلیٹ فارم ، سائنسی تعاون کا بین الاقوامی نیٹ ورک، سماجی طور پر بااختیار بنانے کا پلیٹ فارم ، افراد ی قوت کی ترقی کے لئے رہنما اصول، مضبوط اور مو¿ثر مصنوعی ذہانت کے لئے رہنما اصول شامل ہیں۔
اعلامیہ کے تحت بنیادی وسائل تککفایتی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ ترقی پذیر ممالک کو اپنی مقامی ضروریات کی بنیاد پر اختراعات کرنے کے قابل بنایا جا سکے ۔ یہ صحت، تعلیم اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں اے آئی کا استعمال کرکے بڑے چیلنجوں کا اجتماعی حل تلاش کرنے کا عہد کرتا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد