

ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار لوک سبھا میں لیڈر حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیا گیا: راہل گاندھی
بھوپال، 24 فروری (ہ س)۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں لیڈر حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار لوک سبھا میں لیڈر حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیا گیا۔ میں چینی دراندازی کے مسئلے پر اپنی بات رکھنا چاہتا تھا۔ میں نے لوک سبھا میں سابق آرمی چیف نرونے کی بات رکھی تھی، انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب چینی دراندازی ہوئی تھی تو انہیں ہندوستان کی حکومت نے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔
راہل گاندھی منگل کو مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی تجارتی ڈیل کی مخالفت میں کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ ’کسان مہا چوپال‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بین الاقوامی معاہدے کے ذریعے ملک کے کسانوں کے مفادات سے سمجھوتہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیل چار ماہ تک رکی ہوئی تھی اور زراعت سے منسلک مسائل پر بات چیت تعطل کا شکار تھی۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نے اس دوران متعلقہ وزراء سے کوئی بات چیت نہیں کی اور اچانک فیصلہ لے لیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ امریکہ کی بڑی کمپنیاں سویا، کپاس اور مکئی جیسی زرعی مصنوعات ہندوستان میں فروخت کریں، کیونکہ اس سے ہندوستانی کسانوں کو نقصان ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، چار ماہ تک بات چیت رکی رہی، لیکن ان کی تقریر کے بعد وزیر اعظم نے کابینہ سے تبادلہ خیال کیے بغیر امریکہ کے اس وقت کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو فون کر کے معاہدے کے لیے رضامندی دے دی۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی نے ملک کے کسانوں کو کمزور کیا اور ان کا ڈیٹا تک باہر دے دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی متاثر ہوئی ہے۔
راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف منوج مکند نروانے کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں جانے کا فیصلہ فوجی نہیں، بلکہ سیاسی ہوتا ہے۔ کسان چوپال پروگرام میں بولتے ہوئے راہل نے کہا کہ فوج اپنا فرض نبھاتی ہے، لیکن جنگ کا حتمی فیصلہ سیاسی قیادت کی طرف سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں سابق آرمی چیف کی کتاب میں اٹھائے گئے مسائل کا ذکر کیا۔ کسی بھی ملک میں جنگ جیسے سنگین موضوع پر فیصلہ لینے کی ذمہ داری منتخب حکومت اور سیاسی قیادت کی ہوتی ہے، جبکہ فوج اس فیصلے کو نافذ کرنے کا کام کرتی ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اب حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ بنگلہ دیش کی مدد کی جائے گی اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں صفر فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر ہندوستان امریکہ سے کپاس خریدے گا تو اس پر بھی زیرو ٹیکس نافذ ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر سال ہندوستان کو امریکہ سے بھاری مقدار میں درآمد کرنا پڑے گا، تو اس سے ملک کی گھریلو انڈسٹری پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ دباو میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے معاہدے میں سب کچھ دے دیا، لیکن بدلے میں ملک کو کیا ملا، یہ واضح نہیں ہے۔ ان کے مطابق، پہلے کے مقابلے میں اب ہندوستان کو زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا اور درآمد کی کوئی ٹھوس ضمانت بھی نہیں ملی ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر ملک کو بیچنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم روز اٹھ کر چائے پر بات کرتے تھے، تو کیا ملک کو بیچنے کی بات کرتے تھے۔ مودی جی آج آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات نہیں کر پاتے۔ اپنی بات نہیں رکھتے۔ ایک پریس کانفرنس نہیں کر پاتے۔ صرف بات کرتے ہیں۔ من کی بات کرتے ہیں۔ وہ صرف کانگریس کو ڈرانے کا کام کرتے ہیں، لیکن کانگریس ڈرنے والی نہیں ہے۔ کانگریس کارکنوں کو ڈرنا نہیں ہے۔ اگر آپ ڈریں گے تو مریں گے۔ آئین کو زندہ رکھنا ہے۔ آپ کو لڑنا ہے۔ امریکہ کے پاس بہت بڑی زمین ہے لیکن تین فیصد لوگ کسان ہیں۔ ہمارے پاس ہمارے ملک میں 65 فیصد لوگ کھیتی پر منحصر ہیں۔ ہمارا کسان جو پیداوار کر رہا ہے، اسے مودی ختم کر رہے ہیں۔
کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے مضبوطی سے اپنی بات نہیں رکھ پاتے اور بین الاقوامی مسائل پر دباو میں فیصلے لیتے ہیں۔ ٹرمپ نے خود کہا کہ آپریشن سندور کو میں نے روکا۔ پاکستان اور ہندوستان کو کہہ کر میں نے روکا۔ یہ بات ٹرمپ نے کہی ہے۔ آپریشن سندور روک کر آپ نے بہت بڑی غلطی کی۔ آج بڑی بڑی باتیں کر رہے ہو۔ پہلے ہندوستان کو تجارت میں فائدہ ہوتا تھا، لیکن اب پالیسیاں ایسی ہیں کہ ملک کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکومت امریکی دباؤ میں فیصلے لے رہی ہے، جس سے کسانوں کے مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان جو پھل اگاتے ہیں، اس کی بھی قیمت نہیں ملے گی۔ یہ سب باتیں امریکہ کے ساتھ کیے گئے ایگریمنٹ میں ہیں۔ مودی جی ٹرمپ کی قصیدہ خوانی کرنے والے ہیں۔ منریگا کا نام بدل دیا۔ مودی کا صرف ایک کام ہے، نام بدلو۔ راستے کا نام بدلو، اسکیموں کا نام بدلو۔ اگر نام بدلنا ہی سیاست ہے تو وزیر اعظم کو اپنا نام بھی بدل لینا چاہیے، کیونکہ ان کی پیدائش کانگریس کے دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔ انہوں نے منریگا سمیت کئی اسکیموں کے نام بدلنے پر سوال اٹھائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن