
نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کے جہانگیرپوری علاقے میں تین مساجد کو وقف جائیداد قرار دینے کے 1980 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ تقریباً 46 سال پہلے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو غیر سنجیدہ بنیادوں پر چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار تنظیم سیو انڈیا فاو¿نڈیشن نے غیر ضروری طور پر گڑے مردے اکھاڑنے کی کوشش کی ہے۔ درخواست نہ تو عوامی مفاد میں دائر کی گئی ہے اور نہ ہی نیک نیتی سے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ رٹ پٹیشن دائر کرنے کا مقصد بھی نیکی کا نہیں لگتا۔ سیو انڈیا فاو¿نڈیشن نے 2024 سے 2026 کے درمیان 37 مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی ہیں۔
عرضی میں 10 اپریل 1980 کو دہلی وقف بورڈ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل امیش شرما نے کہا کہ 1980 کے نوٹیفکیشن میں جہانگیر پور کی جامع مسجد، موتی مسجد اور جہانگیر پوری مسجد کو وقف جائیداد قرار دیا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جس زمین پر یہ تینوں مساجد واقع ہیں وہ زمین حصول اراضی ایکٹ کے تحت 1977 میں حکومت نے حاصل کی تھی۔ حصول کے بعد، زمین کے مالکان کو معاوضہ ادا کیا گیا تھا، لیکن بعد میں زمین پر غیر مجاز طریقے سے قبضہ کر لیا گیا ۔ایسے میں انہیں وقف املاک کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
سماعت کے دوران دہلی وقف بورڈ نے عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن وقف بورڈ کمشنر کے ذریعہ کافی جانچ کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ نے کہا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت کسی جائیداد کو وقف قرار دیئے جانے کے ایک سال کے اندر سول عدالت میں چیلنج کیا جانا ضروری ہے اور یہ چیلنج 46 سال بعد دائر کیا گیا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی