دہلی میں اے آئی سمٹ کے دوران حفاظتی حصار کو توڑنے کی سازش تھی
نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ دہلی کے بھارت منڈپم میں 16 سے 21 فروری تک منعقد ہونے والے ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کے دوران سیکورٹی انتظامات کی خلاف ورزی کرنے کی مبینہ سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ کچھ جارح عناصر نے اس بین الاقوامی سطح ک
AI-Summit-Delhi-Police


نئی دہلی، 24 فروری (ہ س)۔ دہلی کے بھارت منڈپم میں 16 سے 21 فروری تک منعقد ہونے والے ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کے دوران سیکورٹی انتظامات کی خلاف ورزی کرنے کی مبینہ سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ کچھ جارح عناصر نے اس بین الاقوامی سطح کی تقریب میں موجود معززین، مندوبین اور مہمانوں کے درمیان پہلے سے منصوبہ بند طریقے سے حفاظتی حصار کو توڑنے کی کوشش کی۔ موقع پر تعینات پولیس اہلکاروں نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں قابو کیا۔ اس دوران کچھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر (کرائم) دیوش شریواستو نے منگل کو پولیس ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کچھ جارح عناصر نے اس بین الاقوامی سطح کے پروگرام میں موجود معززین، مندوبین اور مہمانوں کے درمیان پہلے سے منصوبہ بند طریقے سے حفاظتی حصار کو توڑنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں قابو کیا۔

اس دوران کچھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ اس معاملے میں ایف آئی آر نمبر 19/2026 تلک مارگ پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات 61(2)، 121(1)، 132، 190، 195(1)، 221، 223( اے )، 196، 197، اور 3(5) کے تحت درج کی گئی ۔ ابتدائی تحقیقات میں کئی افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جائے وقوعہ اور اس کے ارد گرد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے کچھ مشتبہ افراد کی شناخت ہوئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں نے دیگر افراد کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر ان مجرموں کو لاجسٹک اور دیگر مدد فراہم کی ۔

پولیس کے مطابق اب تک مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں انڈین یوتھ کانگریس کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔ تمام ملزمان کو پولیس ریمانڈ پر لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب کو بھی منگل کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران، پولیس نے کیس میںبھارتیہ نیائے سنہتا 191(1) اور 192 کو بھی شامل کیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اب تک کی تحقیقات سے یہمعاملہ ایک گہری سازش کے تحت انجام دیا گیا معلوم ہوتا ہے ، جس کے لیے ٹھوس شواہد جمع کیے گئے ہیں۔ اسپیشل سی پی کے مطابق، کیس کے کثیر ریاستی پس منظر، ملزمان کے درمیان ممکنہ مالیاتی اور لاجسٹک نیٹ ورک اور ایک بڑی سازش کے مضمرات کو دیکھتے ہوئے، مزید تفتیش اب دہلی پولیس کرائم برانچ کے بین ریاستی سیل کو سونپ دی گئی ہے۔ پولیس دیگر شناخت شدہ ملزمان اور مشتبہ افراد کی تلاش میں دہلی اور دیگر ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی مکمل اور تفصیلی تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

----------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande