
بھوپال، 20 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پانچویں دن جمعہ کو اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی سے ہونے والی اموات کا معاملہ زور دار طریقے سے اٹھا۔ اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے تحریک التوا پر بولتے ہوئے اسے ’’صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ عوام کے بھروسے کا قتل‘‘ قرار دیا اور حکومت کی جوابدہی پر سنگین سوال کھڑے کیے۔
اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ برسر اقتدار پارٹی اس سنگین مسئلے پر ایوان میں بحث سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جن خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، ان سے پوچھا جائے کہ وہ بحث چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ منع کر دیں، تو ہم بھی پیچھے ہٹ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے ضابطہ 55 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہونے کے باوجود اس پر ایوان میں بحث ممکن ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود ٹینڈر کے عمل میں تاخیر کو تسلیم کیا ہے۔ امرت یوجنا کے تحت تین سالوں میں 3256 کروڑ روپے منظور ہونے کے باوجود اندور میں ایک بھی روپیہ خرچ نہ ہونے اور 27 کروڑ روپے ٹھیکیدار کو ایڈوانس دینے پر بھی انہوں نے سوال اٹھائے۔
اپوزیشن لیڈر نے بتایا کہ ان کی پارٹی کے سینئر لیڈروں کو متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرنے بھیجا گیا تھا، سیاست کرنے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن سے آر ٹی آئی کے ذریعے ملی معلومات کے مطابق کاغذوں پر ایک رات میں 5 کلومیٹر سیوریج لائن ڈالنے اور تقریباً ڈیڑھ سو کروڑ روپے کے فرضی بلوں کا کھیل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ’’اعداد و شمار کی بازیگری‘‘ پر تبصرہ کیا ہے۔
امنگ سنگھار نے جذباتی الفاظ میں کہا، ’’لوگوں نے نل کھولا، پانی بھرا اور اپنے بچوں-بزرگوں کو دیا۔ وہی پانی ان کی موت کا سبب بن گیا۔ یہ صرف حادثہ نہیں، عوام کے اعتماد کا قتل ہے۔‘‘ انہوں نے مرنے والے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے نقصان کے بعد معمول کی صورتحال کا دعویٰ کرنا غیر انسانی ہے۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ بڑے افسران پر کارروائی نہیں ہو رہی، جبکہ نچلی سطح کے افسران کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ پانی کی ٹیسٹ رپورٹ کو عام کرنے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ کھجرانہ اور دیگر علاقوں کی رپورٹ میں خطرناک بیکٹیریا ملنے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی بستیوں میں لوگ سیوریج کے درمیان رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پورے اندور کو آلودہ پانی پلایا جا رہا ہے؟ 2019 کی پولیوشن کنٹرول بورڈ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 60 میں سے 59 نمونے آلودہ پائے گئے تھے، لیکن ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔
امنگ سنگھار نے متنبہ کیا کہ اگر تحریک التوا کو منظور نہیں کیا گیا تو یہ حکومت کے لیے ایک کلنک (داغ) ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ذمہ داروں پر بی این ایس کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔ اموات کے اعداد و شمار پر بھی انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اصل تعداد حکومت کی طرف سے بتائے گئے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔ انہوں نے تمام تحقیقاتی رپورٹس، ایکشن پلان اور ایم او یو کو عوامی پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ وارڈ کی کونسلر نے ایک سال قبل نرمدا واٹر لائن ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس پر کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ، انچارج منسٹر اور شہری انتظامیہ کے وزیر کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اندور کے ساتھ جبل پور، گوالیار-چمبل اور اجین میں بھی ایسی صورتحال کا خدشہ ہے۔ اجین میں ہائی الرٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ سنہستھ کے پیش نظر کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن