
لکھنؤ، 20 فروری (ہ س)۔ اتر پردیش اسمبلی میں بجٹ تجویز پر بحث کے دوران جمعہ کو اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ تو لاتی ہے لیکن خرچ نہیں کرنے پاتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر قرض ہونے کی بات بھی کہی۔ قائد حزب اختلاف کی تقریر کے دوران ایوان کئی بار قہقہوں سے گونج اٹھا۔ قائد حزب اختلاف کی تقریر کے دوران قائد ایوان اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی ہنستے رہے۔
ماتا پرساد پانڈے نے اتر پردیش میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم دینے والے اسکولوں میں درس وتدریس کا کام نہیں ہو پا رہا ہے، اساتذہ کی کمی ہے۔ جن اسکولوں میں اساتذہ دستیاب ہیں، وہ بلاک ایجوکیشن آفیسر سے مل کر اسکول نہیں آ رہے ہیں۔ اگر بچوں کی بنیادیں مضبوط ہوں گی تو ان کے آگے بڑھنے کا راستہ آسان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں میں فیس کے تعین پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے ک ہ اس کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ۔
پانڈے نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تحقیق پر مبنی تعلیم کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ یہاں صرف تاریخ، معاشیات اور دیگر مضامین میں ہی پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والے طلباءکی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے گلگوٹیاس یونیورسٹی میں نام نہاد تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی یونیورسٹیوں پر لگام لگانے کی ضرورت ہے۔حکومت منظوری دینے سے پہلے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
اپوزیشن لیڈر نے صحت کے نظام پر بھی سوالات اٹھا ئے۔ انہوں نے کہا کہ اچھے ڈاکٹرز تعینات کیے جائیں۔ بنیادی مراکز صحت کو ترقی دی جائے۔ پی ایچ سی اور سی ایچ سی میں طبی سہولیات اور جانچ کی سہولیات کا فقدان ہے۔ سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسے ٹیسٹ دستیاب ہونے چاہئیں، جو کہ نہیں ہیں۔ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے بجٹ پر سوال اٹھایا اور حکومت کو کئی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف تنقید نہیں کرتا، میں تو حکومت کو تجاویز بھی بڑی دے رہا ہوں۔ اگر یہ حکومت تجاویز مان لے گی تو ٹھیک ہے، ورنہ اس طرف (اپوزیشن میں) بیٹھے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد