
کولکاتا، 20 فروری (ہ س)۔ مغربی بنگال میں اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے 294 سیٹوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب کا ابتدائی عمل شروع ہو چکاہے۔ ذرائع کے مطابق، حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی قیادت کچھبڑے وزراءاور سینئر ایم ایل اے کی سیٹیں تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ کولکاتا کے کالی گھاٹ میں وزیر اعلی ممتا بنرجی کی رہائش گاہ پر بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ قیادت کی بند کمرہ میٹنگ کے دو دور منعقد ہوئے۔ ان میٹنگوں میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر ابتدائی بات چیت کی گئی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، کابینہ کے کچھ موجودہ وزراءاور سینئر ایم ایل اے کے ناموں پر غور کیا گیا ہے، جنہیں اس بار الگ الگ حلقوں سے میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسے موجودہ ایم ایل اے کے ناموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جنہیں اس بار دوبارہ نامزدگی کے بجائے تنظیمی ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔
میٹنگوں میں امیدواروں کی فہرست میں”پرانے، تجربہ کار رہنماو¿ں“ اور”نئے چہروں“ کے درمیان توازن قائم کرنے کی حکمت عملیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارٹی قیادت اس بار امیدواروں کی فہرست میں کچھ غیر سیاسی اور معروف چہروں کو بھی شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری، میڈیا اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند اہم شخصیات کو ٹکٹ دیا جا سکتا ہے۔ اس بار امیدواروں کی فہرست میں کچھ بڑے حیران کن نام شامل ہو سکتے ہیں۔
دریں اثنا، 16 مارچ کوراجیہ سبھا کی پانچ سیٹوں کے لیے ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ اسمبلی میں اپنی طاقت کی بنیاد پر ترنمول کانگریس آسانی سے چار سیٹیں جیت سکتی ہے، جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک سیٹ پر اکتفا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، چار میں سے تین سیٹوں پر جہاں ترنمول کانگریس کا جیتنا تقریباً یقینی سمجھا جارہا ہے، پارٹی کی بنیادی قیادت سے وابستہ سینئر پارٹی لیڈران لڑیں گے۔ چوتھی نشست پر قومی دارالحکومت میں مضبوط نیٹ ورک اور اثر و رسوخ رکھنے والا غیر سیاسی امیدوار لڑ سکتا ہے۔
پارٹی آنے والے دنوں میں اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرنے کا امکان ہے جس پر سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد