

جبل پور، 20 فروری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کی سیہورا تحصیل میں جمعرات کی دیر رات دو برادریوں کے درمیان تنازعہ ہو گیا۔ کہا سنی سے شروع ہونے والا تنازعہ دو برادریوں کے درمیان مار پیٹ میں بدل گیا۔ جس کے بعد دونوں طرف سے پتھراو شروع ہو گیا۔ موقع پر پہنچی پولیس نے قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا، لیکن صورتحال بگڑتی دیکھ کر آنسو گیس کے گولے داغے، جس سے ہجوم پر قابو پایا جا سکا۔
بتایا جاتا ہے کہ آزاد چوک میں درگا مندر اور مسجد آمنے سامنے ہیں۔ مندر میں آرتی چل رہی تھی، اسی وقت رمضان کی خصوصی نماز تراویح بھی چل رہی تھی۔ اس دوران بحث کے بعد ہنگامہ شروع ہو گیا۔ الزام ہے کہ مندر کی گرل توڑی گئی، وہیں دوسرے فریق نے بھی توڑ پھوڑ کا الزام لگایا ہے۔ شہر سے اضافی فورس سیہورا بھیجی گئی ہے۔ گلی گلی میں پولیس کی پٹرولنگ جاری ہے۔ چپے چپے پر پولیس تعینات ہے۔ اطلاع پر کلکٹر راگھویندر سنگھ اور ایس پی سمپت اپادھیائے بھی موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس اور انتظامیہ کے کئی افسران اب بھی ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سیہورا میں صورتحال پوری طرح قابو میں ہے۔ جمعرات کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے دو فریقین کے درمیان تنازعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس فورس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا تھا۔ کلکٹر راگھویندر سنگھ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمپت اپادھیائے بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمپت اپادھیائے نے بتایا کہ کسی بھی مذہبی مقام کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ دونوں فریقین میں سے کسی بھی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ صورتحال پوری طرح قابو میں ہے اور مناسب تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی افواہ سے بچیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن