
ممبئی ، 20 فروری(ہ س)۔ بھونڈی نگر نگم کے میئر کے انتخاب میں سیاسی منظر نامہ اُس وقت بدل گیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے باغی کارپوریٹر نارائن چودھری نے 48 ووٹ حاصل کر کے میئر کا منصب سنبھال لیا، جبکہ پارٹی کی سرکاری امیدوار سنیہا پاٹل صرف 16 ووٹ حاصل کر سکیں۔ آج منعقدہ انتخابی عمل میں نارائن چودھری نے اکثریت حمایت حاصل کی۔ انہوں نے کامیابی کے بعد اعلان کیا کہ ان کی اولین ترجیح بھونڈی شہر میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا ہوگی اور بنیادی سہولیات کی بہتری پر توجہ دی جائے گی۔ اسی دوران نائب میئر کے عہدے کے لیے ہونے والے انتخاب میں کارپوریٹر مومن طارق باری کو 43 ووٹ ملے اور انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔بھونڈی نگر نگم میں مجموعی طور پر 90 نشستیں ہیں۔ ان میں کانگریس کے 30 ارکان، بھاجپا کے 22، شیو سینا کے 12، راشٹروادی کانگریس پارٹی شرد پوار گروپ کے 12، سماجوادی پارٹی کے 6، کونارک وکاس اگھاڑی کے 4، بھونڈی وکاس اگھاڑی کے 3 اور ایک آزاد رکن شامل ہے۔ کسی بھی جماعت کو مکمل اکثریت نہ ملنے کے باعث میئر کے انتخاب کو لے کر کشمکش جاری رہی۔بالآخر نارائن چودھری نے چھ کارپوریٹروں کے ساتھ پارٹی لائن سے ہٹ کر قدم اٹھایا اور میئر منتخب ہو گئے۔ بھاجپا کے ریاستی صدر رویندر چوہان کے مطابق انہیں بغاوت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے آج صبح چھ کارپوریٹروں کے ہمراہ بغاوت کی۔ چوہان نے کہا کہ چونکہ بھاجپا ایک منظم اور نظم و ضبط کی پابند جماعت ہے، اس لیے باغی عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے