
حیدرآباد کے تاریخی بازاروں میں راتیں دن میں تبدیل
حیدرآباد، 20 فروری (ہ س)۔ ماہ مقدس رمضان کے پیش نظر حیدرآباد کی قدیم تہذیب کے مرکز اور شہر کی شناخت چارمینار کے گرد و نواح میں خریداروں کا ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔ رمضان کی آمد سے قبل ہی اس تاریخی علاقہ کی تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں جو حیدرآباد کی منفرد ثقافت اورمعاشی زندگی کی بھرپورعکاسی کر رہی ہیں۔ چارمینارکے دامن میں واقع بازاروں میں جاری رہنے والی چہل پہل نے ایک عجیب سحرانگیزماحول پیدا کردیا ہے۔ یہاں آنے والے خریداروں کے لئے چارمینار صرف ایک یادگار نہیں بلکہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں سے پورے شہر کی رمضان کی رونق نظرآتی ہیں۔
چارمینار سے متصل لاڈ بازار اپنی روایتی چوڑیوں اور زیورات کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ دکانداروں نے اس بار رمضان کی مناسبت سے چوڑیوں کے نئے دیدہ زیب ڈیزائن، زری کے کام والے دوپٹے اور نفیس ملبوسات کی وسیع رینج متعارف کرائی ہے۔ پتھر گٹی کی قدیم محرابوں اورچارمینارکے سائے تلے واقع دکانوں پر گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔ چارمینار کے آس پاس عطر، ٹوپیاں، جائے نمازاور تسبیح فروخت کرنے والے اسٹالس پر بھی غیر معمولی ہجوم ہے۔ تاجر برادری کے مطابق اس سال رمضان سے قبل ہی کاروبار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بڑے شاپنگ مالس کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ پر لگے وہ روایتی اسٹالس بھی خریداروں کی توجہ کا مرکز ہیں جہاں سستی اور معیاری اشیاء دستیاب ہیں۔
افطارکے لئے کچے مصالحوں، خشک میوہ جات اوردسترخوان کی دیگر ضروریات کی خریداری کے مناظر قابل دید ہیں۔ ان گنجان ترین علاقوں میں خصوصاً چارمینار کے اطراف، ٹرافک کو بہتربنانا ایک بڑاچیلنج بن گیا ہے۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے اضافی ملازمین تعینات کئے ہیں اور کئی مقامات کو پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص قرار دیا گیا ہے تاکہ خریداروں کودشواری نہ ہو۔
رات کے وقت جب پوراعلاقہ روشنیوں میں نہا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوراحیدرآباد چارمینارکے آنچل میں سمٹ آیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ چارمینار کے سایہ میں رمضان کی خریداری ایک ایسا تجربہ ہے جو صدیوں سے حیدرآبادیوں کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ یہاں کی رونق،خوشبواورتاریخی پس منظراس مقدس مہینے کے استقبال کے جذبہ کومزیدجلابخش دیتے ہیں۔۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق