جموں و کشمیر کے کچھ اضلاع میں موسم کی معلومات کے لیے آلات نصب کیے جائیں گے۔وزیر اعلی
جموں و کشمیر کے کچھ اضلاع میں موسم کی معلومات کے لیے آلات نصب کیے جائیں گے۔وزیر اعلی جموں, 20 فروری (ہ س)۔ محکمۂ موسمیاتِ ہند نے ہمالیائی ریاستوں کے لیے مقامی سطح پر نہایت درست موسم کی پیش گوئی کا نیا نظام قائم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حکوم
CM


جموں و کشمیر کے کچھ اضلاع میں موسم کی معلومات کے لیے آلات نصب کیے جائیں گے۔وزیر اعلی

جموں, 20 فروری (ہ س)۔

محکمۂ موسمیاتِ ہند نے ہمالیائی ریاستوں کے لیے مقامی سطح پر نہایت درست موسم کی پیش گوئی کا نیا نظام قائم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حکومتِ جموں و کشمیر کے مطابق اس منصوبے کے تحت سات اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے اور بادل پھٹنے سے ہونے والی شدید بارشوں کے لیے بروقت آگاہی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بتایا کہ قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے نے ہمالیائی ریاستوں کے سات اضلاع کو خصوصی توجہ کے لیے منتخب کیا ہے، جن میں جموں و کشمیر کے رام بن اور کشتواڑ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سری نگر میں محکمۂ موسمیات کے مرکز کے پاس گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران بادل پھٹنے، اچانک سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے اعداد و شمار موجود ہیں۔ انہی معلومات کی بنیاد پر اضلاع کو خطرے کے لحاظ سے زیادہ، درمیانی اور کم درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

جموں خطے میں کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، ریاسی اور ادھم پور کو زیادہ خطرے والے اضلاع قرار دیا گیا ہے، جبکہ راجوری، پونچھ اور کٹھوعہ درمیانی خطرے میں شامل ہیں۔ جموں اور سانبہ کو کم خطرے والے اضلاع میں رکھا گیا ہے۔

کشمیر خطے میں اننت ناگ، کولگام اور گاندربل کو زیادہ خطرے کا حامل قرار دیا گیا ہے، جب کہ بڈگام، شوپیان اور پلوامہ درمیانی درجے میں شامل ہیں۔ سری نگر، بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کو کم خطرے والے اضلاع میں رکھا گیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ ریاست میں چار نئے موسمی نگرانی کے آلات نصب کیے جائیں گے، جبکہ چونتیس خودکار موسمی مراکز اور برف ناپنے کے آلے بھی قائم کیے جائیں گے۔ اس وقت سری نگر، جموں اور بانہال میں تین موسمی نگرانی کے آلات پہلے سے موجود ہیں۔ نئے آلات ڈوڈہ، راجوری، اننت ناگ اور بارہمولہ میں لگائے جائیں گے تاکہ پیشگی اطلاع کا نظام مزید مضبوط ہو سکے۔

مزید برآں دور دراز اور پہاڑی علاقوں بشمول کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، راجوری، ادھم پور، کپواڑہ، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور شوپیان میں اضافی موسمی مراکز اور برف ناپنے کے آلات نصب کیے جائیں گے، جس سے موسمی پیش گوئی اور آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ محکمۂ تعمیراتِ عامہ نے بھی طویل مدتی اقدامات شروع کیے ہیں تاکہ اچانک سیلاب اور بادل پھٹنے سے سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کیا جا سکے۔ ان اقدامات میں ڈھلوانوں کو مضبوط بنانے کے لیے حفاظتی دیواریں، پتھروں سے بھری جالی دار دیواریں اور قدرتی طریقوں سے زمین کو مضبوط بنانے کی تدابیر شامل ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ کے مطابق گزشتہ برس سیلابی نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی حکومت کی ایک ٹیم نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ نقصانات کی تفصیلی رپورٹ متعلقہ وزارت کو پیش کی گئی، جس کے بعد ماہرین کی ایک اور ٹیم نے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرکز کو ارسال کیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قدرتی خطرات اور کمزوریوں کا جامع جائزہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جو خطرات کی درجہ بندی اور نقشہ سازی کا کام انجام دے گی تاکہ آئندہ منصوبہ بندی میں ان عوامل کو مدنظر رکھا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande