
بھوپال، 20 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پانچویں دن جمعہ کو اندور کے بھاگیرتھ پورہ اور آس پاس کے علاقوں میں پینے کے آلودہ پانی سے ہونے والی اموات کو لے کر برسر اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان تیکھی بحث ہوئی۔ اس معاملے کو لے کر اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک التوا پر بحث نہیں ہونے سے ناراض کانگریس اراکین اسمبلی نے زبردست ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔
اسمبلی میں جمعہ کو اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار اور دیگر ارکان نے اندور کے بھاگیرتھ پورہ معاملے کو لے کر تحریک التوا پیش کی۔ تجویز کو منظور کیا جائے یا نہیں، اسی پر ایوان میں بحث شروع ہوئی اور ماحول گرما گیا۔ شہری انتظامیہ کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ یہ واقعہ بے حد سنگین اور تشویشناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کے بعد حکومت نے فوری کارروائی کی۔ متاثرین کے علاج، پانی کی جانچ اور نئی پائپ لائن کا کام شروع کیا گیا۔ ذمہ دار افسران پر کارروائی بھی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ 90 سال پرانی بستی ہے۔ یہاں ان پڑھ لوگ رہتے ہیں، جہاں کام کرنا میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ملازمین ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر پا رہے تھے۔ میئر نے ٹینڈر جاری کیے تھے، لیکن کام وقت پر شروع نہیں ہو سکا۔ اس پر اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے کہا کہ لوگوں کو صاف پانی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کالے پانی کی سزا تو سنی ہے، لیکن یہاں تو لوگوں کو کالا پانی پلایا جا رہا ہے۔ اس پر حکومت جواب نہیں دے رہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر سنگھار نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی تحریک التوا پر بحث سے بچنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنوں کو کھویا ہے، ان کے سوالوں کا جواب ایوان میں دیا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ عوام کے بھروسے کی موت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال کی منت کے بعد پیدا ہونے والی بچی کی بھی اس واقعے میں موت ہو گئی۔ سنگھار نے الزام لگایا کہ کچھ افسران کو بچایا گیا، جبکہ دلت اور آدیواسی افسران کو ہٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر غلطی تسلیم کر رہے ہیں تو انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر بدعنوانی اور لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اندور میں پانی کی صورتحال بے حد خراب ہے۔ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی رپورٹ آنے کے بعد بھی سخت کارروائی نہیں کی گئی۔
کانگریس رکن اسمبلی جے وردھن سنگھ نے کہا کہ اندور کو آٹھ بار ملک کا سب سے صاف ستھرا شہر منتخب کیا گیا، جو فخر کی بات ہے، لیکن بھاگیرتھ پورہ کے واقعے نے شہر کا نام خراب کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب انعام لینے کے لیے وزیر اور میئر آگے رہتے ہیں تو حادثے کے بعد ذمہ داری کیوں نہیں لیتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرنے والوں کی تعداد کو لے کر الگ الگ اعداد و شمار دیے گئے، جس سے الجھن کی صورتحال پیدا ہوئی۔
کانگریس رکن اسمبلی لکھن گنگوریا نے کہا کہ یہ صرف اندور کا معاملہ نہیں، بلکہ پوری ریاست کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے حکومت پر گول مول جواب دے کر بحث سے بچنے کا الزام لگایا۔ سچن یادو نے کہا کہ اکثر چھوٹے افسران پر کارروائی ہوتی ہے، لیکن بڑے افسران کو بچا لیا جاتا ہے۔ انہوں نے میئر کے بیان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر افسران فون نہیں اٹھاتے تو یہ سنگین انتظامی ناکامی ہے۔ انہوں نے تحریک التوا پر بحث کو ضروری قرار دیا۔
اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت کی جانب سے کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اور اس نے کام شروع کر دیا ہے۔ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے تحریک التوا پر بحث کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کیا مدھیہ پردیش میں صاف پانی، موت پر معاوضے اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کی رپورٹ پر بحث نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے پوچھا کہ شہری انتظامیہ کے وزیر کی ذمہ داری کیوں طے نہیں کی جا رہی اور کیا حکومت پورے مدھیہ پردیش کو بھاگیرتھ پورہ بنانا چاہتی ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ اس معاملے پر باریک بینی سے غور و خوض کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسمبلی کے ضوابط کے قاعدہ 55 کی ذیلی شق 5 کے مطابق تحریک التوا میں اس موضوع پر بحث نہیں ہوگی، جس پر ایوان میں پہلے ہی بحث ہو چکی ہے۔ اس کے بعد کانگریس اراکین اسمبلی نے زوردار ہنگامہ کیا، جس کے چلتے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔ کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی اپوزیشن لیڈر نے بھاگیرتھ پورہ پر بحث کا مطالبہ دہرایا۔ بحث کی اجازت نہ ملنے پر کانگریس اراکین اسمبلی نے ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن