
باگل کوٹ، 20 فروری (ہ س) کرناٹک کے باگل کوٹ شہر میں شیواجی جینتی کے موقع پر نکالے گئے ٹیبلو اور جلوس کے دوران پتھراو¿ کے بعد حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔ تاہم، جمعہ کو قلعہ اونی کے علاقے میں پتھراو¿ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا، جس سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کی رات کے واقعہ پر احتجاج کرنے کے لیے جمعہ کو ہندو تنظیموں کے رہنماو¿ں کی میٹنگ ہوئی۔ اجلاس کے بعد کارکنان بازار بند کرنے کے لیے نکل پڑے۔ جب وہ سبزی منڈی کی طرف بڑھ رہے تھے تو قلعہ اونی کے علاقے میں ایک بار پھر پتھراو¿ کیا گیا۔ پتھر سبزی فروشوں کے قریب گرے جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس موقع پر پہنچی اور مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ بعد ازاں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر کے حالات کو قابو میں کر لیا گیا۔ فی الحال علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
دراصل جمعرات کی رات جب شیواجی جینتی کا جلوس پنکا مسجد پہنچا تو کچھ سماج دشمن عناصر نے پتھر اور چپل پھینکے۔ پولیس اس معاملے میں اب تک آٹھ لوگوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ شہر میں احتیاطی تدابیر کے طور پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
دریں اثناءکرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ باگل کوٹ میں پتھراو¿ معاشرے کے امن اور ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام کو شفاف تحقیقات کی ہدایت کی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر اعلیٰ نے عوام سے امن برقرار رکھنے اور افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنانے کے لئے پوری طرح پابند ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی