تحقیق کے لیے علمی دیانت ناگزیر ہے: ڈاکٹر سفیان احمد
شعبہءاردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام چوتھے سالانہ توسیعی خطبے کا انعقادنئی دہلی،20 فروری(ہ س)۔ شعبہءاردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام چوتھے سالانہ توسیعی خطبے کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ خطبہ ڈپٹی لائبریرین، ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری، جا
تحقیق کے لیے علمی دیانت ناگزیر ہے: ڈاکٹر سفیان احمد


شعبہءاردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام چوتھے سالانہ توسیعی خطبے کا انعقادنئی دہلی،20 فروری(ہ س)۔

شعبہءاردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام چوتھے سالانہ توسیعی خطبے کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ خطبہ ڈپٹی لائبریرین، ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری، جامعہ ملیہ اسلامیہ ڈاکٹر سفیان احمد نے ”علمی دیانت: تحقیق کی اخلاقیات اور ماخذ کی تنظیم کے ٹولز“ کے عنوان سے تالار ایران شناسی میں پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ تحقیق میں علمی دیانت ناگزیر ہے۔ ایمانداری، اعتماد، انصاف پسندی، احترام اور ذمہ داری علمی دیانت کے اہم ستون ہیں۔ ایک محقق کو چاہیے کہ وہ درست حوالہ جات کا اہتمام کرتے ہوئے سرقے سے گریز کرے۔ حوالہ جات کی پیش کش میں جدید تحقیقی طریقہءکار اختیار کرنا چاہیے۔ آج کل ماخذ کی تنظیم اور سرقے کی جانچ کے لیے کئی ٹولز، ایپس اور سافٹ ویئر ز دستیاب ہیں۔ تعلیمی تحقیق سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ سرقے کے حوالے سے یو جی سی ریگولیشن ۸۱۰۲ کو پیش نظر رکھے۔ صدر شعبہءاردو، پروفیسر کوثر مظہری نے مہمان مقرر کی خدمت میں نہال پیشی کرتے ہوئے صدارتی کلمات میں کہا کہ طلبہ کو دیانت دار اور ایماندار ہونا چاہیے اور انھیں اپنے کام کے تئیں ذمہ دار اور حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر نگراں با خبر ہو تو بغیر کسی ایپ اور سافٹ ویئر کے وہ سرقے کی نشا ن دہی کر سکتا ہے۔ تحقیق کی اخلاقیات کا پاس و لحاظ رکھنا ہمارا علمی فریضہ ہے۔

خطبے کے کنوینر ڈاکٹر محمد مقیم تھے۔ پروگرام کا آغاز عبد الرحمن کی تلاوت اور اختتام ڈاکٹر شاہنواز فیاض کے اظہار تشکر پر ہوا۔اس موقع پر پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر شاہ عالم، پروفیسر عمران احمد عندلیب، پروفیسر سرور الہدی، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر مخمور صدری، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر خان محمد رضوان، ڈاکٹر ثاقب فریدی اور ڈاکٹر راحت افزا کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande