
واقعہ کے بعد علاقے میں بھاری پولیس فورس کی گئی تعینات
بھوپال/جبل پور، 20 فروری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے جبل پور ضلع سے تقریباً 40 کلومیٹر دور سیہورا تحصیل میں جمعرات کی رات مذہبی مقام کے پاس آرتی اور اذان کو لے کر شروع ہوا تنازعہ پرتشدد جھڑپ میں بدل گیا۔ درگا مندر اور مسجد کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی، جس کے بعد علاقے میں کرفیو جیسے حالات بن گئے۔ واقعہ کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی۔ اب تک 49 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کی ابتدائی جانچ کے مطابق، یہ واقعہ سیہورا تحصیل کے آزاد چوک کے وارڈ نمبر 5 میں ہوا۔ تنازعہ کی شروعات تب ہوئی جب مندر میں آرتی اور مسجد میں اذان تقریباً ایک ہی وقت پر ہو رہی تھی۔ اس دوران دونوں فریقین کے درمیان کہا سنی شروع ہوئی اور جھڑپ میں بدل گئی۔ پولیس کے مطابق مسجد سے تقریباً 70-50 نوجوانوں کی بھیڑ باہر آئی، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔
درگا مندر کمیٹی کے رکن انکیش گپتا نے الزام لگایا کہ بھیڑ نے مندر میں گھسنے کی کوشش کی اور انہیں اندر سے گھسیٹ کر باہر نکالا گیا۔ اس دوران ان کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی۔ تقریباً 25-20 منٹ تک پتھراو چلتا رہا، جس میں مندر کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ چشم دیدوں کے مطابق، مسجد میں چل رہے تعمیراتی کام کی وجہ سے احاطے میں رکھے پتھروں کا استعمال پتھراو میں کیا گیا۔
واقعہ کے اگلے دن یعنی آج جمعہ کو ہندو تنظیموں نے سیہورا تھانے کا گھیراو کیا۔ مظاہرین نے مندر کے سامنے مسجد توڑنے اور نماز پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ کئی لوگ سڑک پر بیٹھ کر ہنومان چالیسا کا پاٹھ کر رہے تھے۔ وہیں، بس اسٹینڈ کے علاقے میں کچھ ٹھیلے بھی پلٹ دیے گئے۔ پولیس نے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے اضافی فورس تعینات کی ہے اور علاقے میں امن برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔
بتا دیں کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی اتل سنگھ، کلکٹر راگھویندر سنگھ اور ایس پی سمپت اپادھیائے موقع پر پہنچے۔ وہیں، کھتولا، گوسل پور، پناگر سمیت 12 سے زیادہ تھانوں کی پولیس فورس تعینات کی گئی۔ علاقے میں فلیگ مارچ کیا گیا تاکہ کشیدگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ ایس پی اپادھیائے نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے۔ فی الحال بھیڑ کو ہٹا دیا گیا ہے اور علاقے میں امن بنائے رکھنے کے لیے پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن