جموں و کشمیر فاریسٹ رائٹ ایکٹ کے تحت 41 ہزار دعوے موصول ہوئے۔وزیر جنگلات
جموں, 20 فروری (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں فاریسٹ رائٹ ایکٹ کے تحت مجموعی طور پر 41 ہزار 944 دعوے موصول ہوئے ہیں، جن میں 28 ہزار 925 انفرادی جنگلاتی حقوق اور 13 ہزار 19 اجتماعی جنگلاتی حقوق کے دعوے شامل ہیں۔ یہ جانکاری جمعہ کے روز اسمبلی کو دی گئی۔
Javeed rana


جموں, 20 فروری (ہ س)۔

جموں و کشمیر میں فاریسٹ رائٹ ایکٹ کے تحت مجموعی طور پر 41 ہزار 944 دعوے موصول ہوئے ہیں، جن میں 28 ہزار 925 انفرادی جنگلاتی حقوق اور 13 ہزار 19 اجتماعی جنگلاتی حقوق کے دعوے شامل ہیں۔ یہ جانکاری جمعہ کے روز اسمبلی کو دی گئی۔

جنگلاتی حقوق کا قانون 2006 اُن درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کے حقوق کو تسلیم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، جو کم از کم تین نسلوں سے جنگلاتی اراضی پر آباد ہیں۔

اسمبلی میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیرِ جنگلات جاوید رانا نے ضلع وار تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ راجوری ضلع میں سب سے زیادہ 16 ہزار 442 دعوے موصول ہوئے، جن میں 9 ہزار 67 انفرادی اور 6 ہزار 2 اجتماعی دعوے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کپواڑہ میں 6 ہزار 39 دعوے (5 ہزار 448 انفرادی اور 591 اجتماعی) اور پونچھ میں 5 ہزار 175 دعوے (1 ہزار 282 انفرادی اور 3 ہزار 893 اجتماعی) درج کیے گئے۔

وزیر نے بتایا کہ بڈگام میں 4 ہزار 65 دعوے (3 ہزار 862 انفرادی اور 203 اجتماعی) موصول ہوئے، جبکہ ڈوڈہ میں 1 ہزار 795، شوپیان میں 1 ہزار 595، کولگام میں 1 ہزار 405، رام بن میں 1 ہزار 308 اور بارہمولہ میں 741 دعوے درج ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اننت ناگ میں 676، ریاسی میں 578، گاندربل میں 514، پلوامہ میں 323 اور بانڈی پورہ میں 219 دعوے موصول ہوئے۔

جموں خطے کے اضلاع میں کشتواڑ میں 855 دعوے درج کیے گئے، جبکہ جموں میں 44، کٹھوعہ میں 42، سانبہ میں 77 اور ادھم پور میں 51 دعوے موصول ہوئے۔ اسمبلی کو بتایا گیا کہ سری نگر ضلع سے کوئی دعویٰ موصول نہیں ہوا۔

وزیرِ جنگلات نے کہا کہ یہ اعداد و شمار جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں جنگلاتی حقوق کے قانون 2006 کے تحت موصول ہونے والے مجموعی دعووں کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کے انفرادی و اجتماعی حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس قانون پر عمل درآمد کے لیے پہلے محکمۂ جنگلات، ماحولیات اور قدرتی وسائل کو نگران محکمہ مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب حکومت نے محکمۂ قبائلی امور کو اس کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande