
جموں, 20 فروری (ہ س)رمضان المبارک کے دوران چندہ جمع کرنے کے ضابطہ سے متعلق جاری کردہ حکم پر پیدا ہونے والے تنازع کے درمیان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ یہ فیصلہ مقامی مذہبی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد لیا گیا ہے اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ ضلع کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر نے بدھ کے روز رمضان کے مقدس مہینے میں چندہ جمع کرنے کے عمل کو منظم کرنے کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔اسمبلی میں کانگریس اراکین غلام احمد میر اور نظام الدین بٹ کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے معاملے کا جائزہ لیا اور پایا کہ ڈپٹی کمشنر نے یہ حکم من مانے طریقے سے جاری نہیں کیا۔ ان کے مطابق تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو پہلے ہی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ رمضان سے قبل مقامی برادریوں سے رابطہ قائم کریں اور ضروری انتظامات کو یقینی بنائیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کشتواڑ اور اس کے نواحی علاقوں کے مسلم مذہبی رہنماؤں نے ایک اجلاس کے دوران انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ رمضان میں بعض افراد جعلی غیر سرکاری تنظیمیں قائم کرکے چندہ جمع کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر خیرات یا مریضوں کے نام پر رقم اکٹھی کی جاتی ہے جن کے وجود کی تصدیق ممکن نہیں ہوتی اور یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ رقم کس طرح خرچ کی جاتی ہے، جس سے حقیقی این جی اوز متاثر ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہی حقیقی خدشات کی بنیاد پر ڈپٹی کمشنر نے حکم جاری کیا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق جامع مسجد کشتواڑ کے امام سمیت دیگر علماء اور مذہبی رہنماؤں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔عمر عبداللہ نے اپیل کی کہ ہر انتظامی فیصلے کو سیاسی زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کئی فیصلے عوامی مشاورت کے بعد کیے جاتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات کو غیر ضروری طور پر سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ادھر کانگریس رہنماؤں نے حکم نامے پر تنقید کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر