
ممبئی ، 20 فروری (ہ س)۔ منترالیہ کے محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ سے وابستہ کلرک راجو عرف راجندر ڈھیرنگے کو رشوت کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد اب ضمانت مل گئی ہے۔ ممبئی سیشن عدالت کی خصوصی اے سی بی عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے عبوری راحت دی۔ اینٹی کرپشن بیورو نے اسے حراست میں لیا تھا اور پیشی کے بعد عدالت نے پہلے عدالتی تحویل سنائی، جس کے فوراً بعد ضمانت کی درخواست پر سماعت کر کے اسے منظور کر لیا گیا۔یہ کارروائی چند دن قبل منترالیہ میں موضوعِ بحث بنی رہی تھی۔ دوسری منزل پر تعینات اے سی بی ٹیم نے اسے اس وقت گرفتار کیا جب وہ مبینہ طور پر 35ہزار وصول کر رہا تھا۔ دعویٰ ہے کہ ایک میڈیکل اسٹور کا معطل پرمٹ بحال کرنے کے لیے اس نے 50 ہزار طلب کیے تھے اور گفت و شنید کے بعد رقم کم کر کے 35 ہزار لی جا رہی تھی۔ چھاپے کے دوران افسران وزیر کے دفتر تک پہنچے اور کچھ دیر تک دفتر کو اپنی نگرانی میں رکھا۔وزیر نرہری جھروال نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ ڈھیرنگے کی نیابتی تعیناتی ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور محکمانہ ویجلنس دستے کو مکمل اور غیر جانبدار جانچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جامع اور معروضی رپورٹ فوری پیش کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔مزید برآں، اے سی بی نے ناسک روڈ میں واقع اس کے گھر پر بھی تلاشی مہم چلائی، جہاں سے کچھ اہم دستاویزات حاصل ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈھیرنگے دراصل محکمہ خوراک و شہری رسد کا ملازم ہے اور تقریباً ایک برس قبل اسے خوراک و ادویات انتظامیہ میں نیابت پر بھیجا گیا تھا، جہاں وہ وزیر کے اپیل شعبہ میں خدمات انجام دے رہا تھا۔اگرچہ عدالت نے اسے ضمانت دے دی ہے، تاہم اینٹی کرپشن بیورو کی تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ برآمد شدہ کاغذات، مالی معاملات اور اس کیس کے ممکنہ روابط اب آئندہ جانچ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے