بہار میں برڈ فلو کی تصدیق، سینکڑوں کوّوں کی ہلاکت کے بعد الرٹ جاری
پٹنہ، 20 فروری(ہ س)۔بہار کے مختلف اضلاع میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران سینکڑوں کوّوں کی پراسرار ہلاکت کے بعد حکام نے برڈ فلو (ایوین انفلوئنزا) کی تصدیق کر دی ہے۔ سرکاری جانچ میں مردہ کوّوں کے نمونوں میں ایچ 5 این 1 وائرس پایا گیا ہے، تاہم اب تک پولٹری
بہار میں برڈ فلو کی تصدیق، سینکڑوں کوّوں کی ہلاکت کے بعد الرٹ جاری


پٹنہ، 20 فروری(ہ س)۔بہار کے مختلف اضلاع میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران سینکڑوں کوّوں کی پراسرار ہلاکت کے بعد حکام نے برڈ فلو (ایوین انفلوئنزا) کی تصدیق کر دی ہے۔ سرکاری جانچ میں مردہ کوّوں کے نمونوں میں ایچ 5 این 1 وائرس پایا گیا ہے، تاہم اب تک پولٹری پرندوں میں اس مرض کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

محکمہ ڈیری، فشریز اینڈ اینیمل ریسورسز کے سکریٹری کپل اشوک شرساٹ نے بتایا کہ مختلف اضلاع میں تقریباً 400 کوّوں کی ہلاکت کے بعد ان کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے، جن میں برڈ فلو کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے عوام سے گھبرانے کے بجائے احتیاط برتنے کی اپیل کی اور کہا کہ بطور احتیاط پولٹری پرندوں کے نمونے بھی جانچ کے لیے روانہ کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق کٹیہار، بیتیا، پٹنہ اور بھاگلپور سمیت مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے نمونے اس ماہ کے اوائل میں کولکاتا کی سرکاری تجربہ گاہ ایسٹرن ریجنل ڈیسیز ڈائگناسٹک لباریٹری بھیجے گئے تھے، جس کے بعد حتمی تصدیق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائی سیکوریٹی انیمل ڈیسیزس نے کی۔

اضلاع میں سب سے زیادہ کوّوں کی ہلاکتیں بھاگلپور میں رپورٹ ہوئیں، جہاں سُلطان گنج اور نوگچھیا علاقوں میں مردہ پرندوں کی موجودگی کے بعد صفائی مہم تیز کر دی گئی ہے۔ درختوں اور اطراف کے علاقوں میں جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے اور مردہ پرندوں کو ایوین انفلوئنزا کے حفاظتی پروٹوکول کے مطابق تلف کیا جا رہا ہے۔

ضلع انتظامیہ نے متاثرہ اور نگرانی والے علاقوں (واقعہ کی جگہ سے ایک سے دس کلومیٹر کے دائرے) میں پولٹری اور اس سے تیار شدہ اشیا کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ 70 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت پر اچھی طرح پکا ہوا گوشت اور انڈے عام طور پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں مہاجر پرندوں کی آمد کے باعث وائرس پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ کوّے کمزور مدافعت کے سبب زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بہار میں برڈ فلو کی جانچ کے لیے مستقل لیبارٹری نہ ہونے کی وجہ سے ردِعمل میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande