بجٹ سیشن: یو جی سی ایکٹ اور 'برہمنیت کی اصطلاح پر بہار اسمبلی میں بحث
پٹنہ، 20 فروری (ہ س)۔ بہار اسمبلی میں جمعہ کے روزحکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان یو جی سی ایکٹ اور ''برہمنیت کی الفاظ پر بحث ہوئی ۔ کئی ارکان نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور اس الفاظ کے استعمال پر اعتراض کیا۔ سی پی آئی (ایم ایل) کے ایم ایل اے سن
بجٹ سیشن: یو جی سی ایکٹ اور 'برہمنیت کی اصطلاح پر بہار اسمبلی میں بحث


پٹنہ، 20 فروری (ہ س)۔ بہار اسمبلی میں جمعہ کے روزحکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان یو جی سی ایکٹ اور 'برہمنیت کی الفاظ پر بحث ہوئی ۔ کئی ارکان نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور اس الفاظ کے استعمال پر اعتراض کیا۔

سی پی آئی (ایم ایل) کے ایم ایل اے سندیپ سوربھ نے کہا کہ یو جی سی ایکٹ کی مخالفت کرنا نامناسب ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات اور امتیاز کو ختم کرنے کے لیے ایکٹ کا نفاذ ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ برہمن ذہنیت کے حامل لوگ نہیں چاہتے تھے کہ اس پر عمل ہو۔ ان کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے اراکین اسمبلی کی طرف سے سخت اعتراض کیا گیا۔ اس کے بعد اسمبلی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی سے 'برہمنیت کی اصطلاح کو ہٹانے کا حکم دیا۔

نائب وزیر اعلیٰ وجے سنہا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئین اور آئینی اداروں کا احترام کیا جاتا ہے تو ایسی زبان کا استعمال نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے الفاظ معاشرے میں تقسیم اور دشمنی کو بڑھاتے ہیں جو ملک اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

وجے سنہا نے اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی مظفر پور میں تکنیکی تعلیم کے دوران رگنگ اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی ذہنیت کسی بھی معاشرے کے خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے۔

آر جے ڈی ایم ایل اے آلوک مہتا نے حکمراں پارٹی کے ردعمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے اس مسئلہ کو حل کیا جارہا ہے اس سے کئی چیزیں واضح ہوجاتی ہیں۔

بی جے پی ایم ایل اے متھیلیش تیواری نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن برہمنیت کے تصور کو ٹھیک سے نہیں سمجھتی ہے۔ انہوں نے برہمن برادری کی تاریخی اور سماجی شراکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستانی روایت اور اقدار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایوان میں اس معاملے پر طویل بحث ہوئی جس میں دونوں فریقین نے اپنے دلائل پیش کیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande