جموں و کشمیر کے تمام سیاحتی مقامات مئی تک کھول دیئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ
جموں و کشمیر کے تمام سیاحتی مقامات مئی تک کھول دیئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ جموں، 20 فروری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سیاحت کی بحالی کے لیے کی گئی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے ا
CM


جموں و کشمیر کے تمام سیاحتی مقامات مئی تک کھول دیئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ

جموں، 20 فروری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سیاحت کی بحالی کے لیے کی گئی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس وقت بند تمام سیاحتی مقامات مئی تک دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔ قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے سیاحت کے شعبے کو دوبارہ زندہ کیا، حالانکہ حملے کے بعد بیشتر افراد کا خیال تھا کہ کئی برسوں تک سیاح جموں و کشمیر کا رخ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاحت سے وابستہ افراد کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا، اعتماد بحال کیا اور پابندیوں کے باوجود سرگرمیوں کو بتدریج بحال کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاحتی ڈھانچے کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ اپنی قدرتی خوبصورتی کے باوجود بنیادی سہولیات جیسے بیت الخلاء وغیرہ کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان خامیوں کو دور کیا جائے گا۔ پہلی بار سیاحوں کو جموں و کشمیر لانا مشکل نہیں، اصل کامیابی انہیں دوبارہ آنے پر آمادہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق مضبوط اور پائیدار سیاحت کی اصل کسوٹی “دوبارہ آنے والے سیاح” ہیں اور حکومت اب اسی پہلو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گلمرگ اور سونہ مرگ جیسے سرمائی مقامات پر ہوٹل مکمل طور پر بھر چکے ہیں جبکہ سری نگر میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد دیکھی جا رہی ہے، جو شعبے کی بحالی کا ثبوت ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکز کی جانب سے کئی سیاحتی مقامات کھولنے کی ہدایت دی جا چکی ہے جبکہ چند مقامات اب بھی بند ہیں۔ تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مئی تک تمام مقامات کھول دیے جائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نو نئے سیاحتی مقامات متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔ ابتدا میں یہ منصوبہ کثیر ملکی مالی معاونت کے تحت شروع کیا جانا تھا، مگر بعض رکاوٹوں کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اب مرکز کے تعاون سے مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے تحت نو نئے مقامات کھولے جائیں گے، جن کے نام مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کو اس کا جائز حق دیا جائے گا۔

جموں میں جاری منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں جھیل اور جموں ریور فرنٹ منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔ ریور فرنٹ منصوبے کو مزید توسیع دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہو سکے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ہر علاقے میں کم از کم ایک چھوٹا یا بڑا سیاحتی مقام ترقی دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ سیاحت کا دائرہ دور دراز علاقوں تک پھیلایا جا سکے، خصوصاً جموں میں جہاں سالانہ ایک کروڑ سے زائد عقیدت مند ماتا ویشنو دیوی کا رخ کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے دس فیصد کو بھی دیگر مقامات کی طرف راغب کیا جائے تو یہ جموں کی معیشت میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ سیاح کم از کم چھ سے سات دن یہاں قیام کریں، جس کے لیے سرحدی سیاحت، مذہبی سیاحت، گالف سیاحت اور بھدرواہ سمیت دیگر علاقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ کشمیر صرف گرمیوں کی سیاحت تک محدود نہیں رہا بلکہ اب سرمائی موسم میں بھی سرینگر اور اطراف میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ ٹولپ گارڈن کی بروقت تیاری سے بھی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر اور نومبر میں سیاحوں کی کم آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے باغِ گلِ داؤدی (کریسنتھیمم گارڈن) تیار کیا گیا جو کامیاب ثابت ہوا، اور اسے مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande