
پٹنہ، 19 فروری (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں بہار میں آئی تبدیلی کو لے کر جمعرات کے روز اسمبلی میں زوردار بحث ہوئی۔ تعلیمی بجٹ پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے میتھلی ٹھاکر نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2005 سے پہلے بہار مہابھارت میں دھرتراشٹر کے ہستینا پور جیسا تھا، جہاں حکمرانی تھی لیکن نظام کی نگرانی اور بہتری کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ انہیں صرف دریودھن کی فکر تھی، ہستینا پور کی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب سرکاری اسکول تباہی کا شکار تھے، اساتذہ تنخواہوں کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور بچوں کو دوپہر کے کھانے سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اسکول کاغذ پر کام کرتے تھے لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے کئی سینئر رہنما اس دور کے گواہ تھے اور حکومت کا حصہ بھی تھے، اس لیے انہیں اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا، عوام بھول سکتے ہیں، لیکن تاریخ کبھی نہیں بھولتی اور نہ ہی معاف کرتی ہے۔
سال 2005 کو بہار کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کی قیادت میں اس وقت ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں گڈ گورننس، امن و امان اور ترقی کی نئی روایت کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سائیکل اسکیم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے اسے حکومت کی ایک تاریخی پہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم نے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی قسمت بدل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پہلے لڑکیاں اسکول نہیں جا پاتی تھیں، سائیکلیں ملنے کے بعد لڑکیوں کی بڑی تعدادا سکول جانا شروع ہو گئی۔ اس وقت اپوزیشن اس اسکیم کا مذاق اڑاتی تھی لیکن آج یہ پورے ملک کے لیے نمونہ بن چکی ہے۔
خواتین کو بااختیار بنانے اور امن و امان کے بارے میں، میتھلی ٹھاکر نے کہا کہ حکومت نے لڑکیوں کو اعتماد اور احترام دینے کے لیے کام کیا ہے، پنچایتوں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن، ممانعت اور خواتین کی حفاظت سے متعلق سخت قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ کہتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ بہار نے اندھیرے سے روشنی، خوف سے خود اعتمادی اور جنگل راج سے اچھی حکمرانی کی طرف سفر کیا ہے۔ اب ریاست پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ رہی ہے بلکہ آگے بڑھ رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan