شعبہ تاریخ میں ہڑپا کے آثارِ قدیمہ پر دو روزہ ورکشاپ منعقد
شعبہ تاریخ میں ہڑپا کے آثارِ قدیمہ پر دو روزہ ورکشاپ منعقد علی گڑھ، 19 فروری (ہ س) سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، شعبہ تاریخ (آثارِ قدیمہ سیکشن) کے زیر اہتمام ”ہڑپا کے آثارِ قدیمہ“کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں ممتاز ماہرینِ آثارِ قدیمہ
ہڑپا کے دور پر ورکشاپ


شعبہ تاریخ میں ہڑپا کے آثارِ قدیمہ پر دو روزہ ورکشاپ منعقد

علی گڑھ، 19 فروری (ہ س) سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، شعبہ تاریخ (آثارِ قدیمہ سیکشن) کے زیر اہتمام ”ہڑپا کے آثارِ قدیمہ“کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں ممتاز ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور اسکالرز نے شرکت کرتے ہوئے وادی سندھ کی تہذیب سے متعلق حالیہ دریافتوں پر تبادلہ خیال کیا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سنجے کمار منجُل مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جبکہ جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اروِن منجُل مہمانِ اعزازی تھے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر سید علی ندیم رضاوی نے کی اور استقبالیہ کلمات پروفیسر حسن امام نے پیش کیے۔

آثارِ قدیمہ سیکشن کے کنوینر اور انچارج پروفیسر مانویندر کمار پنڈھیر نے ہندوستانی تاریخ میں ہڑپا مطالعات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ورکشاپ کے مقصد، یعنی جدید تحقیقی نتائج کو طلبہ اور محققین تک پہنچانے پر زور دیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر سنجے کمار منجُل نے ہڑپا کے مقامات کی حالیہ کھدائیوں میں سائنسی طریقوں اور جدید ٹکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا۔ صدارتی کلمات میں پروفیسر رضاوی نے ہڑپا کی تہذیب کی اصطلاح اور اس کی تشریحات سے متعلق جاری علمی مباحث پر گفتگو کی۔

پانچ تکنیکی نشستوں کے دوران ماہرین نے حالیہ کھدائیوں اور نئی تعبیرات پر مبنی لیکچرز پیش کیے۔ ڈاکٹر اروِن منجُل نے ہڑپا کی اہم کھدائیوں اور ان کے نتائج کا جائزہ پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر سنجے کمار منجُل نے راکھی گڑھی میں ہونے والی حالیہ کھدائیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، لکھنؤ کے ڈاکٹر سدرشن چکردھاری نے خانک میں کھدائی کی تکنیک اور ہڑپاکی بستیوں سے متعلق دھاتوں کی دستیابی پر گفتگو کی۔

کولکاتا کی ڈاکٹر بنانی بھٹاچاریہ نے ہڑپا دور کی دستکاریوں کا سائنسی تجزیہ پیش کیا، جبکہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ڈاکٹر وکاس کمار سنگھ نے وسطی گنگا وادی اور ہڑپا کی تہذیب کے درمیان آثارِ قدیمہ کے روابط کا جائزہ لیا۔ ورکشاپ کے دوران دو نمائشوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں ایک علی گڑھ خطے (ہاتھرس) کے مجسموں پر اور دوسری کیمرے کی نظر سے شاہجہان آباد کی السٹریٹیڈ تاریخ کے عنوان پر تھی۔ شرکاء نے موسیٰ ڈاکری میوزیم کا دورہ بھی کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande