
حیدرآباد, 19 فروری (ہ س)۔تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کی سرحدی پٹی پرواقع ملگ ضلع کے جنگلات میں اچانک کشیدگی بڑھ گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق ممنوعہ ماؤنوازتنظیم کے اہم لیڈرچکاراوعرف دامودرکی اپنے دستہ کے ساتھ میڈارم کے جنگلاتی علاقوں میں چھپے رہنے کی خبروں نے پولیس اورسیکورٹی فورسس کوہائی الرٹ کردیا ہے۔ریاستی انٹیلیجنس اورمقامی پولیس ذرائع کو اطلاع ملی ہے کہ ماؤ نوازوں کی تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی کے اہم رکن چکاراؤ اور ان کے ساتھیوں نے میڈارم کے گھنے جنگلات میں پناہ لی ہے۔ اس اطلاع کے بعد ملگ ضلع کی پولیس اور گرے ہاؤنڈس کے دستوں نے جنگلاتی علاقوں میں بڑے پیمانہ پر تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔ سرحدی علاقوں میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور مشتبہ مقامات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز تنظیم کے بعض اہم پروگراموں یا میٹنگوں کے سلسلہ میں یہ نقل و حرکت ہو رہی ہے جس کے پیش نظر پولیس کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ ضلع ملگ اورچھتیس گڑھ کی سرحدوں پر پولیس اور ماؤ نوازوں کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشہ نے مقامی بستیوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ پولیس نے جنگل سے ملحقہ دیہاتوں کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ نامعلوم افراد کی نقل و حرکت کی فوری اطلاع دیں اور جنگل کے اندرونی حصوں میں جانے سے گریز کریں۔ واضح رہے کہ چکا راؤ طویل عرصہ سے پولیس کی ہٹ لسٹ پرہے اوراس کی گرفتاری یاموجودگی کی اطلاع کو پولیس ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ فی الحال پورے سرحدی علاقے میں ہائی ٹینشن کی صورتحال برقرار ہے۔۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق