
وادی کشمیر کے 70 ہزار افراد منشیات کے استعمال میں ملوث ۔ حکومت
جموں، 19 فروری (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ وادی کشمیر میں تقریباً 70 ہزار افراد منشیات کے استعمال میں ملوث ہیں جبکہ ان میں سے قریب 50 ہزار افراد ہیروئن کے عادی ہیں اور زیادہ تر انجکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرتے ہیں۔ یہ معلومات رکن اسمبلی جاوید ریاض کے سوال کے جواب میں محکمہ صحت و طبی تعلیم نے ایوان میں پیش کیں۔
حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر ملک کے دیگر علاقوں کی طرح نشہ آور اور نفسیاتی اثر رکھنے والی منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے سنگین سماجی اور عوامی صحت کے مسائل سے دوچار ہے۔ حکومت کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بیک وقت کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں عوامی بیداری مہمات، احتیاطی اقدامات، قانون نافذ کرنے والے نظام کو مضبوط بنانا اور علاج و بحالی مراکز کی توسیع شامل ہے۔
حکومت نے بتایا کہ 2022 میں محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے کشمیر کے 10 اضلاع میں کیے گئے مشترکہ سروے کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد منشیات کے استعمال میں مبتلا پائے گئے۔ جموں و کشمیر میں مختلف نشہ چھڑانے کے مراکز کے ذریعے اب تک تقریباً 69 ہزار مریضوں کو علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔محکمہ نے مزید بتایا کہ میڈیکل کالجوں اور ضلع اسپتالوں میں نشہ چھڑانے کے مراکز پر مفت او پی ڈی، آئی پی ڈی، ہنگامی خدمات اور اوپیئڈ متبادل علاج کی سہولت دستیاب ہے۔
اس وقت 1864 افراد رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 358 مریض فعال طور علاج حاصل کر رہے ہیں۔حکومت کے مطابق ذہنی صحت اور نشہ علاج کلینکس بھی قائم کیے گئے ہیں جبکہ اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹی سطح پر بیداری پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ ڈرگ کنٹرول ادارہ منشیات سے متعلق قوانین پر عمل درآمد یقینی بنا رہا ہے اور 2025-26 کے دوران دسمبر تک 518 آگاہی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں۔
ہیلپ لائن 104 کو بھی فوری مدد اور مشاورت کے لیے عام کیا گیا ہے۔حکومت نے یقین دلایا کہ خاص طور پر دیہی اور حساس علاقوں میں علاج اور بحالی کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ جی ایم سی اننت ناگ، ہندواڑہ اور سری نگر میں نشہ علاج مراکز مکمل طور پر فعال ہیں جبکہ جی ایم سی بارہمولہ میں نشہ چھڑانے کے لیے خصوصی عمارت کی تعمیر کے لیے 5 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر