جموں و کشمیر حکومت عارضی ملازمین کی مستقل کرنے کا عمل شروع کرے گی۔وزیر اعلیٰ
جموں, 19 فروری (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت 2026 میں ڈیلی ویجرز، ایڈہاک اور دیگر عارضی ملازمین کی مستقلی کا عمل قانونی اور مالی طور پر پائیدار انداز میں شروع کرے گی، جبکہ رواں سال تقریباً 30 ہزار خالی سرکاری اس
CM


جموں, 19 فروری (ہ س)۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت 2026 میں ڈیلی ویجرز، ایڈہاک اور دیگر عارضی ملازمین کی مستقلی کا عمل قانونی اور مالی طور پر پائیدار انداز میں شروع کرے گی، جبکہ رواں سال تقریباً 30 ہزار خالی سرکاری اسامیوں کو پُر کرنے پر بھی کام جاری ہے۔قانون ساز اسمبلی میں اپنے محکموں کے گرانٹس اور کٹ موشنز پر بحث کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجرز اور عارضی ملازمین کا مسئلہ دہائیوں سے حل طلب ہے اور مختلف جماعتوں کے ارکان نے اس معاملے کو اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملازمین 20، 30 اور حتیٰ کہ 40 برس سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب تک کوئی حکومت اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکی۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ چیف سکریٹری کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ایسی پالیسی بنائی جائے جو عدالتوں یا محکمہ خزانہ میں رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ آنے اور تمام تیاری مکمل ہونے کے بعد تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ مستقل کرنے کا عمل جلد بازی میں ممکن نہیں اور بغیر تیاری کے محض کاغذ پر دستخط کرکے ملازمین کو گمراہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت عارضی ملازمین کی درست تعداد اور ٹائم لائن بھی طے کرے گی۔ اسمبلی کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں مختلف سرکاری محکموں میں ایک لاکھ سے زائد ڈیلی ویجرز اور کیجول لیبررز کام کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ ورک فورس میں 69,696 کیجول لیبررز، 8,836 ڈیلی ریٹڈ ورکرز، 8,534 سیزنل لیبررز، 5,757 فوڈ و سول سپلائیز ہیلپرز، 2,153 پارٹ ٹائم سویپرز اور 1,929 اسپتال ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔روزگار کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسامیوں کی تخلیق اور بھرتیوں میں فرق ہے۔ حکومت نے اسامیاں کم بنائیں مگر تقریباً 6 سے 6.5 ہزار اسامیوں پر تقرریاں کیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ رواں سال 30 ہزار خالی اسامیوں کو شفاف اور مقررہ مدت کے اندر سلیکشن بورڈ اور پبلک سروس کمیشن کے تعاون سے پُر کیا جائے گا تاکہ ماضی کی طرح بھرتی کے عمل میں قانونی رکاوٹیں نہ آئیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande