
ہمایوں کبیر کی اہلیہ کو شو کاز نوٹس، اراضی کے استعمال میں تبدیلی پر سیاست تیز
کولکاتا، 19 فروری (ہ س)۔ مغربی بنگال کے محکمہ اراضی و اراضی اصلاحات کے ذریعے معطل ترنمول کانگریس رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کی اہلیہ میرا سلطانہ کو جاری کردہ شو کاز نوٹس کے بعد ریاست کی سیاست گرما گئی ہے۔ محکمے نے الزام لگایا ہے کہ مرشد آباد ضلع کے بیلڈانگا علاقے میں 0.2 ایکڑ زمین کا زمرہ مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر بدل دیا گیا۔
محکمے کو موصولہ ایک اجتماعی عرضی کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ زمین کی نوعیت اور استعمال میں تبدیلی مغربی بنگال اراضی اصلاحات ایکٹ، 1955 کی دفعہ 4 سی کی خلاف ورزی ہے۔ اس التزام کے تحت کسی بھی رعیت کو زرعی اراضی کو غیر زرعی یا دیگر استعمال میں بدلنے سے پہلے کلکٹر کی اجازت لینا لازمی ہے۔ کلکٹر کو ایسے معاملات میں اجازت دینے، مسترد کرنے یا تبدیلی کی موثر تاریخ طے کرنے کا حق ہے۔
جاری نوٹس میں سلطانہ سے سات دن کے اندر جواب دینے کو کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف دفعہ 4 ڈی کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ محکمے کے مطابق، مقررہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر اراضی کا زمرہ بدلا گیا ہے۔
یہ پورا معاملہ اس لیے بھی حساس ہو گیا ہے کیونکہ بیلڈانگا میں مجوزہ بابری مسجد کا تعمیراتی کام شروع ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ یہ مسجد ایودھیا میں 6 دسمبر 1992 کو منہدم کیے گئے اصل ڈھانچے کی طرز پر بنائے جانے کی تجویز ہے۔ اس پروجیکٹ کو ہمایوں کبیر کا ڈریم پروجیکٹ بتایا جاتا رہا ہے۔
بھرت پور اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی رہے ہمایوں کبیر نے نوٹس کے وقت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زمین پر تعمیراتی کام شروع ہونے اور ترقیاتی کام آگے بڑھنے کے کافی وقت بعد یہ کارروائی کی گئی۔ کبیر نے اسے ریاستی حکومت اور برسر اقتدار ترنمول کانگریس کی سازش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مکان کی تعمیر کے بعد سے وہ کئی بار میوٹیشن کرانے کی کوشش کر چکے تھے، لیکن متعلقہ حکام نے اسے ضروری نہیں بتایا۔ اب ترنمول کانگریس چھوڑنے کے بعد ان کے خلاف انتقامی جذبے سے کارروائی کی جا رہی ہے۔ کبیر نے واضح کیا کہ وہ قانونی طور پر جواب دیں گے اور افسران کو مناسب جواب سونپیں گے۔
اس نوٹس کے بعد سیاسی حلقوں میں الزام تراشی کا دور تیز ہو گیا ہے۔ اپوزیشن اسے انتظامی کارروائی بتا کر قانون کی پاسداری کی بات کر رہا ہے، جبکہ کبیر کے حامی اسے سیاسی انتقام کی کارروائی بتا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن