

بھوپال، 19 فروری (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین عالمی چیلنج ہے۔ موسمیاتی تبدیلی انسانی وجود، معاشی استحکام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے مربوط سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کی راہ میں ہم ماحولیات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہی پیشرفت کی بنیادی اساس ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے زور دے کر کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے معاملے میں ٹھوس اور وقتی حل پر کام کرنا آج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وابستگیوں میں بھی ریاستوں کی شراکت بھی اہم ہے۔ مدھیہ پردیش موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں سب سے زیادہ قابل تجدید توانائی کا پروڈیوسر بن کر لیڈر کے کردار میں ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش ملک کی سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی ریاستوں میں صف اول میں ہے۔ یہاں تقریباً ہر شعبے میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ایم پی میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تعاون دینے کا یقین اور سیکورٹی کی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور سرمایہ کار مل کر ملک کو قابل تجدید توانائی کے معاملے میں خود کفیل بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے بجلی دینے کی سمت میں مدھیہ پردیش تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کے ساتھ ہمارا رشتہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تجارت و کاروبار کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کی شام ممبئی میں کلائمیٹ ویک-2026 سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش میں نئی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے محکمہ نئی اور قابل تجدید توانائی (حکومت ایم پی) اور گرین انرجی کے لیے مشہور سیکویا کلائمیٹ فاؤنڈیشن کے درمیان وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی موجودگی میں ایم او یو ہوا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا حل صرف ایک ملک، ایک ریاست یا ایک حکومت ہی نہیں کر سکتی، اس کے لیے قومی اور بین الاقوامی تعاون بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی منتقلی، سبز ترقی اور ماحولیاتی حل کے لیے آگے بڑھنے کی سمت میں ممبئی کلائمیٹ ویک ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے لیے فوری اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے صاف ذرائع کو فروغ دینا، سبز ٹیکنالوجیز کو اپنانا اور قدرتی وسائل کا متوازن استعمال کرنا ہی مستقبل کی ترقی کی راہ ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ زمین کو محفوظ اور متوازن بنائے رکھنے کی ذمہ داری حکومتوں کے ساتھ ہی صنعتوں، اداروں اور اس ملک میں رہنے والے ہر شہری کی بھی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کو عوامی شرکت سے جوڑتے ہوئے 'لائف اسٹائل فار انوائرنمنٹ (ماحولیات کے لیے طرز زندگی) جیسی عملی تبدیلیوں کو اپنانے کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سبز توانائی کی پیداوار کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی سمت میں مدھیہ پردیش حکومت کی اختراعات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش ہندوستان کی ان سرکردہ ریاستوں میں سے ایک ہے، جس نے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش پہلی ریاست ہے، جس نے ای وی پالیسی بنائی، جو موسمیاتی تبدیلی کی جانب کارگر قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہماری حکومت مدھیہ پردیش میں 300 میگاواٹ 4 گھنٹے سولر-کم-انرجی اسٹوریج پروجیکٹ، 300 میگاواٹ 6 گھنٹے سولر-کم-انرجی پروجیکٹ سمیت 24x7 گھنٹے قابل تجدید توانائی بیٹری پر مبنی انرجی اسٹوریج پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔ یہ ایک نیا تجربہ ہے۔ یہ ہندوستان کا اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ ہے۔ مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست ہے، جو اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں ایم پی کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے۔ شمسی توانائی (سولر انرجی) میں 48 فیصد اور پون توانائی (ونڈ انرجی) میں 19 فیصد سالانہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ قابل تجدید توانائی کے بڑے پروجیکٹوں کے ذریعے ہم نے ایم پی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد پڑوسی ریاستوں اور ہندوستانی ریلوے کو بھی صاف توانائی کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اومکاریشور فلوٹنگ سولر پروجیکٹ دنیا کا سب سے بڑا فلوٹنگ سولر پروجیکٹ ہے۔ یہ ایک ایسا پروجیکٹ ہے، جس میں ہم نے کسی بھی شہری کو بے گھر نہیں ہونے دیا، اس پروجیکٹ میں توانائی کی پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں سانچی ملک کی پہلی سولر سٹی بنی ہے۔ ہم تمام سرکاری عمارتوں پر سولر روف ٹاپ لگانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت سرمایہ کاروں، نجی شعبے اور پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر ایم پی کو ہندوستان کا قابل تجدید توانائی کا مرکز بنانے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ہم شمسی، پون، انرجی اسٹوریج، بائیو فیول اور گرین ہائیڈروجن سمیت تمام قابل تجدید ٹیکنالوجیز میں مالیاتی اور پالیسی پر مبنی ترغیبات بھی دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ مدھیہ پردیش کے تیزی سے تبدیلی کے سفر میں ہمارے ساتھ جڑیں۔ اس سے آب و ہوا کو متوازن رکھنے میں تو مدد ملے گی ہی، یہ سب کے تجارت و کاروبار کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا اور ایم پی کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم توانائی کے تحفظ، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایم پی اور ہندوستان کے روشن مستقبل کی تعمیر کریں گے۔
محکمہ نئی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر جناب راکیش شکلا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہم بیٹری اسٹوریج پر مبنی توانائی کی پیداوار کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایم پی میں اومکاریشور فلوٹنگ سولر پاور پروجیکٹ، شاجاپور، آگر-مالوا اور ریوا میں الٹرا میگا سولر پروجیکٹ پر کام ہوا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش لامحدود امکانات کی ریاست ہے۔ یہاں سرمایہ کاری کریں، حکومت آپ کے ساتھ ہے۔
ایڈیشنل چیف سکریٹری نئی اور قابل تجدید توانائی جناب منو شریواستو نے کہا کہ قابل تجدید توانائی، بجلی کی فراہمی کا ایک کارگر، سستا اور قابل اعتماد متبادل ہے۔ ہم مدھیہ پردیش کے شہریوں کو کم سے کم نرخ پر بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں سے کہا کہ وہ نئی اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اپنی ضرورتوں اور تجاویز کے بارے میں بتائیں، حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے کی جانے والی تمام اختراعات میں ان تجاویز کو شامل کرے گی۔ اے سی ایس جناب شریواستو نے کہا کہ ایم پی میں 24x7 گھنٹے بجلی کی فراہمی کے لیے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی برادری کے سامنے عزم ظاہر کیا تھا، جسے ہم اب پورا کرنے جا رہے ہیں۔
ورلڈ بینک گروپ سے وابستہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے جنوبی ایشیا کے ریجنل ڈائریکٹر جناب عماد این فخوری نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کی پیداوار کے شعبے میں مدھیہ پردیش حکومت کی تیزی قابل ستائش ہے۔ اس شعبے کی ترقی میں حکومت کی سوچ اور سمت واضح ہے۔ 24X7 گھنٹے قابل تجدید توانائی پر مدھیہ پردیش حکومت کی سرمایہ کار دوست ڈیزائن سے ہم متاثر ہیں۔ ہم مدھیہ پردیش کی قابل تجدید توانائی کی پیداوار کے شعبے کی تمام خصوصیات اور مہارتوں کا عالمی سطح پر فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ایف ڈی آر ای سینٹرز کے قیام کے لیے ہم حکومت کو ہر ضروری تعاون دیں گے۔
سیکویا کلائمیٹ فاؤنڈیشن کی ہندوستان میں ڈائریکٹر محترمہ سیما پال نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مدھیہ پردیش قیادت کرنے والا (لیڈر) ہے۔ ایم پی میں فی الحال تقریباً 500 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کی پیداوار پر کام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کی ترقی اور توسیع میں ہم مدھیہ پردیش کے شراکت دار بھی ہیں اور حصہ دار بھی۔ انہوں نے کہا کہ اسی سمت میں ہم آج مدھیہ پردیش کے ساتھ پارٹنرشپ کے لیے ایک ایم او یو بھی کر رہے ہیں۔
پروگرام سے ڈاکٹر اشونی کمار اور جناب امت سنگھ نے بھی خطاب کیا۔ مدھیہ پردیش میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ہونے والی ترقی اور اختراعات پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ملکی اور غیر ملکی ماحولیاتی ماہرین، پالیسی سازوں اور بڑی تعداد میں صنعتی دنیا کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ ایم پی انرجی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب امن ویر سنگھ بینس بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن