
ممتاز ماہر امراض چشم پروفیسر نفیس احمد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار
علی گڑھ، 18 فروری (ہ س)۔ ممتاز ماہرِ امراض چشم اور انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر نفیس احمد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کی زندگی تعلیم، ادارہ سازی اور سماجی خدمت کے لیے وقف رہی۔ 1942 میں اتر پردیش کے ضلع سیتاپور میں پیدا ہونے والے پروفیسر احمد نے 1972–73 میں انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا۔ طویل تدریسی اور پیشہ ورانہ زندگی کے دوران انہوں نے اپنی علمی مہارت، انتظامی صلاحیت اور اعلیٰ تعلیمی معیار کے فروغ کے باعث وسیع احترام حاصل کیا۔ وہ 31 جولائی 2007 کو ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔
پروفیسر احمد نے 12 دسمبر 1991 سے 15 جولائی 1992 تک انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1992 میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (اموٹا) کے صدر منتخب ہوئے۔ یونیورسٹی سے اپنی طویل وابستگی کے دوران انہوں نے متعدد اہم انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں، جن میں پراکٹر، مختلف ہالز آف ریزیڈنس کے پرووسٹ، اور ممبر انچارج، پراپرٹی کے عہدے شامل ہیں۔
سبکدوشی کے بعد پروفیسر احمد تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں میں سرگرم رہے، خصوصاً ضلع ہاتھرس کے علاقے میں انہوں نے غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ مل کر محروم بچوں اور نوجوانوں کے لیے اسکولوں اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ پروفیسر احمد کی زندگی عاجزی، دیانت داری اور عوامی خدمت سے غیر متزلزل وابستگی کی مثال تھی۔
دریں اثنا، فیکلٹی آف میڈیسن کے اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے ان کے انتقال پر تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں شرکاء نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحوم کی مغفرت و درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اجلاس کی صدارت ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد نے کی۔
اسی روز انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی کے تدریسی و غیر تدریسی عملے اور طلبہ کی جانب سے ادارے کے سیمینار روم میں ایک علیحدہ تعزیتی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی۔ اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی، پروفیسر سیمیں ذکاء الرب نے کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ