

ایم پی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 4.38 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا
مدھیہ پردیش میں نہیں لگے گا کوئی نیا ٹیکس
بھوپال، 18 فروری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے تیسرے دن بدھ کو ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ جگدیش دیوڑا نے ڈاکٹر موہن یادو حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کیا۔ مالی سال 27-2026 کا یہ بجٹ چار لاکھ 38 ہزار 317 کروڑ روپے کا ہے۔ اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ دیوڑا نے اپنی تقریباً ایک گھنٹہ 30 منٹ کی بجٹ تقریر میں کہا کہ یہ بجٹ گیانی (علم والا) کی شکل میں ہے۔ اس میں غریب، نوجوان، ان داتا (کسان)، خواتین، انفراسٹرکچر اور انڈسٹریلائزیشن پر توجہ مرکوز ہے۔ ان کے لیے تین لاکھ کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں یہ پہلا رولنگ بجٹ ہے۔ 2028 میں ہونے والے سنہستھ کے لیے 3600 کروڑ کا خصوصی التزام کیا گیا ہے۔ سیلف ہیلپ گروپس، اجولا یوجنا سمیت خواتین کی بہبود کی مختلف اسکیموں کے لیے ایک لاکھ 27 ہزار 555 کروڑ کے التزام کیے گئے ہیں۔ کام کاجی خواتین کے لیے 5700 ہاسٹل بنائے جائیں گے۔
وزیر خزانہ دیوڑا نے بجٹ میں پنچایت اور دیہی ترقیات کے لیے 40062 کروڑ روپے کا اعلان کیا، ساتھ ہی لاڈلی بہنوں کے لیے 23,882 کروڑ کے التزام، نوجوانوں کے لیے 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی اور جماعت 8ویں تک کے بچوں کو مفت ٹیٹرا پیک دودھ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ دیوڑا نے جی رام جی یوجنا کے لیے 10428 کروڑ اور پی ایم جن من کے لیے 900 کروڑ روپے کے التزام اور ایک لاکھ کسانوں کو سولر پمپ دینے کا اعلان کیا۔ محکمہ محنت کے لیے ایک ہزار 335 کروڑ، سڑکوں کی مرمت کے لیے 12690 کروڑ، جل جیون مشن کے لیے 4 ہزار 454 کروڑ روپے کا التزام کیا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ دیوڑا نے کہا کہ یہ وزیر اعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے والا بجٹ ہے۔ ہر خاتون کو انصاف ہماری حکومت کا مقصد ہے۔ ہم ملک کی تیسری نوجوان ریاست ہیں۔ نوجوانوں کے ہاتھ کو کام ملے یہ ہمارا عزم ہے۔ انہوں نے شاعرانہ انداز میں کہا کہ ”ہر ہاتھ کو کام، ہر اپج کو دام۔ ناری کو نرنے کا ادھیکار، یواوں کے حوصلوں کا پرسار۔ اب سنرچنا کا وستار، ہر گھر جل آپ کے دوار۔ سواستھ سیواوں میں سدھار، جن کلیان سدرڑھ۔“ ”موقعوں کے گھوڑے کے ارادے، جو ساہس پر ایک بار چڑھتے ہیں، وہ لوگ کبھی اپنی منزل سے نہیں اترتے ہیں۔ پرجا سکھے سکھم راجہ، پرجا نام چہ ہتم ہتم“ - یعنی - ”پرجا کے سکھ میں ہی راجہ کا سکھ ہے، پرجا کے ہت میں ہی راجہ کا ہت ہے۔“
دیوڑا نے بجٹ میں 106156 کروڑ روپے سے زیادہ کا سرمایہ خرچ بتایا، 44.42 کروڑ روپے ریونیو سرپلس۔ ریاست خود کے ٹیکسوں سے 117667 کروڑ روپے اکٹھا کرے گی۔ مرکزی ٹیکسوں کے حصے میں ریاست کو 112137 کروڑ روپے ملیں گے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی امدادی گرانٹ 54505 کروڑ روپے حاصل ہوں گے۔
مدھیہ پردیش میں پہلی بار ڈیجیٹل بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ہر طبقے کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔ اس میں زرعی شعبے کے لیے 115013 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ صحت کے شعبے کے لیے 24144، تعلیم کے لیے 31953 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ اجین میں ایلیویٹڈ کاریڈور کی تعمیر کے لیے 1000 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ اندور پریتم پور اکنامک کاریڈور پروجیکٹ کی ترقی کے لیے 2360 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
بجٹ میں مویشی پروری کے لیے 2364 کروڑ کا التزام کیا گیا ہے۔ کسانوں کو 25 ہزار کروڑ روپے کا قلیل مدتی قرض دلایا جائے گا۔ بلا سود قرض دلانے کے لیے 720 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔ زرعی شعبے کے لیے 1.15 لاکھ کروڑ کا التزام کیا گیا ہے۔ بھاوانتر یوجنا کے تحت کسانوں کو 337 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ کسانوں کو ایک لاکھ سولر آبپاشی پمپ دستیاب کرائے جائیں گے۔ 21630 کروڑ روپے کی مجرا ٹولہ سڑک یوجنا پیش کی گئی۔
مچھلی کی پیداوار کے لیے 412 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
٭ مدھیہ پردیش میں بائیو گیس اور پنچ کرم کی سہولت دستیاب ہوگی۔
٭ اقلیتی ہاسٹلوں کو اپ گریڈ (انت) کیا جائے گا۔
٭ 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی مجوزہ ہے۔
٭ اسکالرشپ کے لیے 286 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
٭ دھرتی آبا یوجنا کے لیے 752 کروڑ روپے کا التزام۔
٭ 294 ساندیپنی اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔
٭ 5700 ورکنگ وومن ہاسٹل شہروں میں بنائے جائیں گے۔
٭ پی ایم شری یوجنا کے لیے 530 کروڑ روپے۔
٭ لاڈلی لکشمی یوجنا کے لیے 1852 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
٭ مدھیہ پردیش میں 8ویں تک کے بچوں کو اسکول میں دیا جائے گا ٹیٹرا پیک میں دودھ۔
٭ لاڈلی بہنا یوجنا کے لیے 23882 کروڑ روپے کا التزام۔
٭ لاڈلی بہنا یوجنا میں کل ایک کروڑ 25 لاکھ خواتین شامل ہیں۔
٭ کھیل اور نوجوانوں کی بہبود کے لیے 815 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
٭ پی ڈبلیو ڈی کے لیے 12690 کروڑ روپے۔
٭ جل جیون مشن کے لیے 4454 کروڑ روپے۔
٭ 100 لاکھ ہیکٹر کا آبپاشی رقبہ کیا جائے گا۔
٭ پی ایم فصل بیمہ یوجنا کے لیے 1299 کروڑ روپے۔
٭ سی ایم کرشک انتی یوجنا کے لیے 5500 کروڑ روپے۔
٭ مدھیہ پردیش کو ملک کی ملک کیپٹل بنانا مقصد۔
٭ سڑکوں کی مرمت کے لیے 12960 کروڑ روپے۔
٭ آیوشمان یوجنا کے لیے 2139 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
٭ 4 ہزار سردار پٹیل کوچنگ کھولنے کا مقصد۔
٭ 16451 نوجوانوں کو ادیم کرانتی یوجنا کے تحت لون دیا جائے گا۔
٭ 5 کروڑ 88 لاکھ پودے لگائے گی حکومت۔
٭ اجین سنگھستھ مہاکمبھ کے لیے 13851 کروڑ روپے۔
٭ آنے والے پانچ سال میں 10 لاکھ نئے پی ایم آواس۔
٭ خواتین کی بہبود کی اسکیموں کے لیے 127555 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
٭ جی رام جی یوجنا کے لیے 10440 کروڑ روپے۔
٭ پی ایم آواس یوجنا کے لیے 6850 کروڑ روپے۔
٭ سوچھ بھارت مشن کے لیے 400 کروڑ روپے۔
٭ محکمہ پولیس کے لیے 14306 کروڑ روپے کا التزام۔
٭ سی ایم تیرتھ درشن یوجنا کے لیے 50 کروڑ روپے۔
٭ پی ایم جن من یوجنا کے لیے 900 کروڑ روپے۔
٭ مدھیہ پردیش میں کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا ہے۔
٭ ایک اپریل سے طلاق شدہ بیٹی کو بھی فیملی پنشن دی جائے گی۔
٭ مدھیہ پردیش کا مالیاتی خسارہ 3 فیصد رہے گا۔
٭ ایم بی بی ایس کے لیے 2850 سیٹیں بڑھائی جائیں گی۔
٭ بجٹ میں بندیل کھنڈ انڈسٹریل پیکیج تیار کیا جائے گا۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں اسمبلی کمیٹی روم میں وندے ماترم گیت کے ساتھ کابینہ (وزراء کونسل) کی میٹنگ شروع ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے میٹنگ سے پہلے، اسمبلی میں پیش کیے جانے والے سال 27-2026 کے بجٹ کے لیے نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیوڑا سمیت محکمہ خزانہ کی ٹیم کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سال 27-2026 کا بجٹ تاریخی ہے۔ یہ بجٹ سبھی کو ساتھ لے کر قدم بہ قدم آگے بڑھتے جانے کے عزم کا ثبوت ہے۔ یہ بجٹ ریاست میں مرکزی حکومت کے بنیادی منتر ”گیان“ کے تحت غریب-نوجوان-ان داتا اور خواتین کی بہبود کے ساتھ ساتھ صنعتی سرگرمیوں کی توسیع کے لیے وقف ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن