
جموں, 18 فروری (ہ س)۔
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم بحال کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ملازمین نئے پنشن نظام کے تحت ہی رہیں گے۔یہ بات وزیر خزانہ نے سجاد غنی لون کی جانب سے پیش کی گئی کٹ موشن کے جواب میں تحریری ردعمل میں کہی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پرانی پنشن اسکیم کی بحالی زیر غور نہیں ہے اور نئے پنشن نظام کی طرف منتقلی ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا جس کا مقصد مالی استحکام اور ملازمین کی بعد از ملازمت سماجی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے پنشن نظام کا آغاز 2004 میں حکومت ہند نے کیا تھا، جسے بعد میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے بھی اختیار کیا۔ جموں و کشمیر حکومت بھی ملازمین کے لیے یکساں مراعات برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق پنشن اخراجات میں تیزی سے اضافہ ریاست کی مالی حالت کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک اخراجات پر منحصر خطہ ہے جہاں سرمایہ کاری کے مواقع محدود اور آمدنی کے ذرائع کم ہیں، جبکہ پنشن کی ذمہ داریاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2004-05 میں پنشن اخراجات 731 کروڑ روپے تھے جو بڑھ کر 1495 کروڑ روپے ہو گئے۔ حکومت کے مطابق اگر پرانی پنشن اسکیم جاری رکھی جاتی تو یہ طویل مدت میں مالی طور پر ناقابل برداشت ثابت ہوتی اور ریاستی مالی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔حکومت نے مزید واضح کیا کہ یکم جنوری 2010 کے بعد تعینات ہونے والے تمام سرکاری ملازمین پر نئے پنشن نظام کا اطلاق جاری رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر