شعبہ سیاسیات کے اسکالرز نے استنبول میں بین الاقوامی سمپوزیم میں اپنی تحقیق پیش کی
شعبہ سیاسیات کے اسکالرز نے استنبول میں بین الاقوامی سمپوزیم میں اپنی تحقیق پیش کی علی گڑھ، 18 فروری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے ایک ریسرچ اسکالر اور ایک فیکلٹی رکن نے استنبول میں منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم میں مشترکہ تحقیقی م
شعبہ سیاسیات کے اسکالرز نے استنبول میں بین الاقوامی سمپوزیم میں اپنی تحقیق پیش کی


شعبہ سیاسیات کے اسکالرز نے استنبول میں بین الاقوامی سمپوزیم میں اپنی تحقیق پیش کی

علی گڑھ، 18 فروری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے ایک ریسرچ اسکالر اور ایک فیکلٹی رکن نے استنبول میں منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم میں مشترکہ تحقیقی مقالہ پیش کرکے عالمی سطح پر اپنی علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ریسرچ اسکالر عثمان علی کاغذگر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد انصاری نے برٹش ایسوسی ایشن فار اسلامک اسٹڈیز کے فرسٹ ونٹر سمپوزیم (2026) میں اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان ”وقف اور پائیدار ترقیاتی اہداف میں جدید رجحانات: ایک ببلیومیٹرک تجزیہ“ پیش کیا۔

اس سمپوزیم کا مرکزی موضوع ”بحران اور عالمی ناانصافی کے دور میں اسلامی مطالعات“تھا۔ 24 تا 25 جنوری کو بوغازچی یونیورسٹی میں منعقدہ اس دو روزہ بین الاقوامی اجتماع میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور محققین نے شرکت کی، جہاں اسلامی مطالعات اور متعلقہ شعبوں میں درپیش عصری مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر انصاری کی نگرانی میں انجام دی گئی اس تحقیق میں اسلامی وقف اداروں کے بدلتے کردار کا جائزہ لیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ کس طرح یہ ادارے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول و فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تحقیق میں ببلیومیٹرک اور تجزیاتی طریقہ کار کے ذریعے پائیدار ترقی کے مباحث میں وقف کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مقالہ پیش کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین پروفیسر محمد نفیس انصاری نے کہا کہ اس نوعیت کی بین الاقوامی کانفرنسوں میں اے ایم یو کے محققین اور فیکلٹی ممبران کی شرکت مستحکم تحقیقی ماحول اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے علمی اثر و رسوخ کی عکاس ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande