
سنبھل، 18 فروری (ہ س)۔ فلم ’یادو جی کی لو اسٹوری‘ کے پروڈیوسر اور ہدایت کار سمیت چار لوگوں کے خلاف ضلع کی گننور تحصیل کے دھناری پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یادو برادری کے ارکان نے فلم پر ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہے اور اس کی ریلیز کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ضلع کے بھکرولی گاو¿ں کے رہنے والے اروند کمار نے بدھ کو دھناری پولیس اسٹیشن میں فلم ’یادو جی کی لو اسٹوری‘ کے پروڈیوسر، ہدایت کار، ہیرو اور ہیروئن سمیت چار لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ایف آئی آر میں فلم پروڈیوسر سندیپ تومر، ہدایت کار انکت بھڈانا، اداکارہ پرگتی تیواری اور اداکار وشال موہن کو نامزد کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ دو درجن سے زائد لوگوں کے ساتھ تھانے پہنچا اور تحریری شکایت درج کرائی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ 27 فروری کو ریلیز ہونے والی فلم میں دکھائے گئے مناظر یادو برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں، جس سے کمیونٹی میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ فلم میں ایک یادو لڑکی اور دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے لڑکے کی محبت کی کہانی کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے، اس طرح یادو برادری کی ثقافت اور تاریخ کو مسخ کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں تھانہ انچارج سنجے کمار نے بتایا کہ اروند کمار نے فلم ’یادو جی کی لو اسٹوری‘ کے حوالے سے شکایت درج کرائی تھی۔ حکام کی ہدایات کے بعد اس معاملے میں رپورٹ درج کر لی گئی ہے، تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
اروند یادو نے سنبھل کے تمام سنیما مالکان سے فلم کی نمائش نہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یادو برادری فلم میں غلط بیانی سے ناراض ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی